رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی وزیر دفاع چیک ہیگل کا غیر اعلانیہ دورہ افغانستان


وزیر دفاع چک ہیگل ہفتہ کو غیر اعلانیہ دورے پر کابل پہنچے جو کہ ان کا بحیثیت امریکی وزیر دفاع یہاں کا آخری دورہ ہے۔

امریکہ کے سبکدوش ہونے والے وزیر دفاع چک ہیگل نے کہا ہے کہ افغانستان سے رواں ماہ بین الاقوامی افواج کے انخلا کے باوجود پہلے سے اعلان کردہ تعداد سے ایک ہزار سے زائد امریکی فوجی یہاں مزید چند تک تعینات رہیں گے۔

یہ بات انھوں نے ہفتہ کو غیر اعلانیہ دورے پر کابل پہنچنے پر کہی۔ بحیثیت امریکی وزیر دفاع یہاں کا آخری دورہ ہے۔

چک ہیگل نے گزشتہ ہفتے ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا جس کے بعد صدر براک اوباما نے نئے وزیردفاع کی تقرری تک اس منصب پر کام کرتے رہنے کا کہا۔

جمعہ کو صدر اوباما نے ایشٹن کارٹر کو وزیر دفاع نامزد کیا ہے جن کی کانگریس سے توثیق کے بعد وہ اس منصب پر فائز ہو جائیں گے۔

کابل اترنے سے پہلے جہاز میں صحافیوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ’’مجھے اعتماد ہے کہ افغان سکیورٹی فورسز کابل کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔‘‘

چیک ہیگل نے کابل کا یہ غیر اعلانیہ دورہ ایسے وقت کیا جب ایک طرف رواں ماہ کے اواخر تک غیر ملکی لڑاکا افواج کی اکثریت کا افغانستان سے انخلا مکمل ہونے جا رہا ہے تو دوسری طرف طالبان کی پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

رواں سال افغانستان میں اب تک مختلف پرتشدد واقعات میں لگ بھگ 4600 افغان سکیورٹی اہلکار مارے جا چکے ہیں جو کہ گزشتہ برس اسی عرصے میں ہونے والی ہلاکتوں سے چھ فیصد زیادہ ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پرتشدد کارروائیوں میں اضافے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ طالبان بڑے حملوں کے لیے کوششیں کرتے آ رہے تھے تاکہ عدم استحکام کا تاثر دیا جا سکے۔

بین الاقوامی افواج کے انخلا کے بعد بھی ایک معاہدے کے تحت 12 ہزار سے زائد امریکی اور دیگر نیٹو فوج افغانستان میں رہتے ہوئے سکیورٹی فورسز کی تربیت اور انسداد دہشت گردی میں ان کی معاونت جاری رکھیں گے۔

ایک روز قبل امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے بھی لندن میں افغان قائدین سے ملاقات میں اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ افغانستان میں طالبان شدت پسندوں کے حملوں میں تیزی آئی ہے لیکن ان کے بقول افغان سکیورٹی فورسز اس سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG