رسائی کے لنکس

logo-print

 واشنگٹن میں تعینات سفیروں  کی امریکی انتخابات پر گہری نظر


صحافی وائٹ ہاؤس میں نتائج جاننے کے لیے جمع ہیں۔ 4 نومبر 2020

امریکہ ایک عالمی طاقت ہے اور اس کی وجہ سے دنیا بھر میں امریکی صدارتی انتخابات میں گہری دلچسبی پائی جاتی ہے۔ اس موقع پر دارلحکومت واشنگٹن میں تعینات سفیر اپنے اپنے ملکوں کے لیے آنکھیں اور کان تصور کیے جاتے ہیں۔

الیکشن کے دنوں میں سفیروں کے مشاہدات اور تجزیات کی اپنے اپنے ملکوں میں اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ سن 2020 کے انتخابات کے دوران سفارت کاروں کی الیکشن کو قریب سے دیکھنے اور سفارت خانوں میں اکھٹے ہو کر پارٹیوں کی صورت میں الیکشن کے متعلق تازہ ترین معلومات پر بات چیت کرنے کی روایات کرونا وائرس کے باعث محدود ہو کر رہ گئیں۔

لیکن ان غیر معمولی حالات کے باوجود سفارت کاروں کی الیکشن میں دلچسبی بر قرار رہی اورسفارت کار اپنے آپ کو تازہ ترین صورت حال سے باخبر رکھنے کی کوششیں کرتے رہے۔

واشنگٹن میں آئرلینڈ کے سفیر ڈینئل ملحال نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ باہر کی فضا میں سانس لیے بغیر انہوں نے کوشش کی کہ وہ امریکی انتخابات کی بہتر سے بہتر تصویر دیکھ سکیں۔

واشنگٹن میں آئرلینڈ کے سفیر ڈینیئل ملہال، فائل فوٹو
واشنگٹن میں آئرلینڈ کے سفیر ڈینیئل ملہال، فائل فوٹو

اس سلسلے میں سفارت کار نے کہا کہ اپنے تجزیے کے لیے انہوں نے رپورٹروں سے بات چیت کی، مختلف تھنک ٹینک سے وابستہ تجزیہ کاروں کی آرا اور دونوں پارٹیوں کے متعلق باخبر شخصیات سے گفتگو کر کے استفادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ آئرلینڈ اور یورپ میں امریکی انتخابات کو بڑی سنجیدگی سے دیکھا جاتا ہے۔ اور ان کے ہم وطن امریکی سیاست کے مختلف پہلوؤں سے بہت باخبر ہیں اور اس بنا پر انہیں ہر تفصیل بتانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔

یاد رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جن کا تین نومبر کے الیکشن میں ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن سے مقابلہ ہوا، بارہا اس بات کا ذکر کر چکےہیں کہ ان کے اجداد کا تعلق آئرلینڈ سے ہے۔

اسی طرح جرمنی اور ڈنمارک کے سفیروں نے تین نومبر کو ہونے والے انتخابات کو گہری نظرسے دیکھنے کی کوششیں کی۔

کچھ سفارت خانوں نے الیکشن کو قریب سے دیکھنے سے متعلق سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم پر تصاویر بھی پوسٹ کیں۔

البتہ واشنگٹن میں چین کے سفارت خانے کی توجہ اخبار دی نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ پر تھی جس میں چین کے صحت کی عالمی تنظیم کے تعلقات ہر روشنی ڈالی گئی تھی اور جسے صدر شی جن پنگ کی جانب سے رد کیا گیا۔

سفارت خانے نے اپنی توجہ امریکہ کی اس تنقید کر رد کرنے پر بھی مرکوز رکھی کہ چین کی حکومت مسلمانوں سے ناروا سلوک رکھتی ہے اور صوبہ سنکیانگ میں ان کی مذہبی آزای کو کچلنے کی کوشش کر رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG