رسائی کے لنکس

logo-print

الیکٹورل کالج، صدارتی انتخاب میں ٹرمپ کی فتح کی رسمی تصدیق


پیر کے روز، باضابطہ طریقہٴ کار کے مطابق، ہر ریاست اور ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کے الیکٹرز نے اپنا اپنا ووٹ ڈالا، اور جیسا کہ توقع تھی، چار برس کے لیے امریکی سربراہ کے چناؤ کے لیے ڈالے گئے ووٹوں کی تعداد 270 سے زائد رہی

اربوں کی جائیداد کے کاروبار کے مالک، ڈونالڈ ٹرمپ پیر کے روز باضابطہ طور پر امریکہ کے پینتالیسویں صدر منتخب ہوئے، جن کی فتح کی تصدیق الیکٹورل کالج نے کی جس کی آج ووٹنگ ہوئی۔

نومبر کے اوائل سے امریکیوں کو پتا تھا کہ ٹرمپ، جو ری پبلیکن پارٹی کی ٹکٹ پر پہلی بار کسی منتخب عہدے کے امیدوار تھے، وہ 20 جنوری کو وائٹ ہاؤس کا عہدہ سنبھالیں گے۔ تاہم، امریکی صدارتی انتخابات الیکشن کے دِن کی اصل ووٹنگ پر طے نہیں ہوا کرتے، بلکہ ملک کی تمام 50 ریاستوں اور قوم کے دارالحکومت، واشنگٹن میں ہونے والی صدارتی بیلٹنگ کے نتائج پر منحصر ہوتے ہیں، جب 538 الیکٹرز الیکٹورل کالج کے لیے ووٹ دیتے ہیں۔
پیر کے روز، باضابطہ طریقہٴ کار کے مطابق، ہر ریاست اور ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کے الیکٹرز نے اپنا اپنا ووٹ ڈالا، اور جیسا کہ توقع تھی، چار برس کے لیے امریکی سربراہ کے چناؤ کے لیے ڈالے گئے ووٹوں کی تعداد 270 سے زائد رہی۔

اُن کی مد مقابل ڈیموکریٹ پارٹی کی ہیلری کلنٹن کے سخت حامیوں نے مطالبہ کیا تھا کہ ٹرمپ کے حامی الیکٹرز اُن کی حمایت چھوڑ دیں، اس بنا پر کہ پاپولر ووٹوں میں کلنٹن نے اُنھیں تقریباً 29 لاکھ ووٹوں سے شکست دی ہے۔

اِن میں سے چند نے پیر کے روز ریاستوں کے دارالحکومتوں کے باہر احتجاجی مظاہرے کیے، تاکہ ٹرمپ کو شکست دی جاسکے۔

تاہم، ہر ریاست نے الیکٹورل کالج کے لیے بیلٹنگ کی رپورٹ دی۔ ٹرمپ کو یقین دہانی کرانے والے ہر ریاست کے الیکٹر پختہ کھڑے رہے، اور اُنھیں کامیابی دلائی۔

حالانکہ قومی سطح پر پاپولر ووٹ کی گنتی میں کلنٹن کو سبقت حاصل رہی؛ ٹرمپ کو وہاں جیت ملی جہاں یہ درکار تھی، یعنی 50 ریاستوں میں سے 31 میں، تاکہ اُنھیں الیکٹورل کالج میں اکثریت ملے۔

زیادہ تر انتخابی برسوں کے دوران، الیکٹورل کالج کی یہ ووٹنگ محض رسمیہ اہمیت کی حامل ہوا کرتی ہے۔ لیکن، اِس سال ایسا نہیں تھا۔

عام طور پر پوپولر ووٹ جیتنے والے کو اُس ریاست کے تمام الیکٹورل ووٹ حاصل ہوتے ہیں، جو آبادی کے تناسب کی بنیاد پر کسی ریاست کے لیے متعین ہوتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG