رسائی کے لنکس

logo-print

روس افغان طالبان کو ہتھیار فراہم کر رہا ہے: امریکی جنرل کا دعویٰ


جنرل جان نکولسن (فائل فوٹو)

افغانستان میں بین الاقوامی افواج کے سربراہ نے روس پر افغان طالبان کو اسلحہ فراہم کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے 'بی بی سی' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی جنرل جان نکولسن کا کہنا تھا کہ انھوں نے "روسیوں کی طرف سے عدم استحکام کی سرگرمیاں دیکھی ہیں"، اور ان کے بقول مبینہ طور پر تاجکستان کی سرحد سے طالبان کو روسی ہتھیار اسمگل کیے گئے۔

"ہم نے یہاں (افغانستان میں) داعش کے جنگجوؤں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا بیانیہ دیکھا پھر اس بیانیے کو طالبان کی کارروائیوں کو روس کی طرف سے جائز قرار دیے جانے اور کسی حد تک طالبان کو مدد فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔"

جنرل نکولسن نے کہا کہ انھوں نے ذرائع ابلاغ میں طالبان کی طرف سے شائع ہونے والی کہانیاں بھی دیکھیں جس میں وہ کہتے ہیں کہ "دشمن نے ہماری مدد کی۔ افغان راہنماؤں کی طرف سے ہمیں وہ اسلحہ بھی لا کر دکھایا گیا جو ان کے بقول روسیوں نے طالبان کو دیا۔۔۔ہمیں معلوم ہے کہ اس میں روسی ملوث ہیں۔"

امریکی جنرل کے خیال میں روس کا طالبان کے ساتھ اس طرح ملوث ہونا قدرے نیا ہے۔ ان کے بقول روس نے افغان سرحد کے قریب تاجکستان میں کئی فوجی مشقیں کیں۔

"انسداد دہشت گردی کی مشقیں کی گئیں، لیکن ہم نے روس کا یہ رویہ پہلے بھی دیکھا کہ وہ بھاری مقدار میں سازو سامان لاتا ہے اور پھر اسے اپنے پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔"

خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اسلحہ اور آلات پھر سرحد پار اسمگل کر کے طالبان کو فراہم کر دیا جاتا ہے۔

امریکی جنرل جان نکولسن کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اسلحے کی مقدار کے بارے میں کچھ وثوق سے نہیں کہہ سکتے، لیکن برطانوی نشریاتی ادارے کو افغان پولیس اور فوجی عہدیداران یہ بتا چکے ہیں کہ ان میں رات کو دیکھنے والے خصوصی آلات، درمیانی اور بھاری مشین گنز اور دیگر چھوٹا اسلحہ شامل ہے۔

روس طالبان کو ہتھیار اور مالی امداد فراہم کرنے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ اس شدت پسند گروپ کے ساتھ مذاکرات سے متعلق امور پر رابطے میں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG