رسائی کے لنکس

ہلمند: نیٹو کی پہلی فضائی کارروائی، منشیات کی تنصیبات تباہ


کابل

جنرل نکلسن نے کہا ہے کہ بم باری کے نتیجے میں ہیلمند میں طالبان کی منشیات کی پیداوار سے وابستہ تنصیبات کو تباہ کیا گیا، جو افغانستان کے جنوبی صوبے کا علاقہ ہے جہاں وسیع رقبے پر پوست کی فصل کاشت کی جاتی ہے، تاکہ باغی گروپ کو آمدن کے اہم ذریعے محروم کیا جا سکے

افغانستان اور مقامی اتحادیوں کے تعاون سے منشیات پیدا کرنے والی تنصیبات اور ذخائر کو تباہ کرنے کی غرض سے، امریکہ نے پہلی فوجی کارروائی کی ہے تاکہ پھر سے کمربستہ طالبان کو آمدن کے اس بڑے ذریعے سے محروم کیا جا سکے۔

اس اقدام سے قبل، بین الاقوامی اتحاد پر تنقید کی جاتی رہی ہے کہ افیون کی تجارت کو ختم کرنے کے سلسلے میں ضروری اقدام نہیں کیا جا رہا۔

پیر کے روز کابل میں تقریر کرتے ہوئے، امریکی فوج اور نیٹو کے ’رزولوٹ سپورٹ فوجی مشن‘ کے کمانڈر، جنرل جان نکلسن نے اتحاد کی جانب سے منشیات کے انسداد کے خلاف پہلی فضائی کارروائی کی تفصیل بتائی۔

اُنھوں نے کہا کہ بم باری کے نتیجے میں ہیلمند میں طالبان کی منشیات کی پیداوار سے وابستہ تنصیبات کو تباہ کیا گیا، جو افغانستان کے جنوبی صوبے کا علاقہ ہے جہاں وسیع رقبے پر پوست کی فصل کاشت کی جاتی ہے، تاکہ باغی گروپ کو آمدن کے اہم ذریعے محروم کیا جاسکے۔

جنرل نکلسن نے کہ ’’ہم نے اُن لیباریٹریوں کو نشانہ بنایا جہاں پوست سے ہیروئن تیار کی جارہی تھی۔ ہم نے ذخیرے کی تنصیبات کو ہدف بنایا جہاں وہ اپنی مصنوعات کو آخری شکل دیتے ہیں، جہاں وہ اپنی رقم رکھتے ہیں اور جہاں اُن کا کمان اور کنٹرول نظام ہے‘‘۔

بقول اُن کے، ’’ہمارے اندازے کے مطابق، 20 کروڑ ڈالر سے زائد کی غیر قانونی معیشت تباہ کی گئی، جو رقوم طالبان کی جیبوں میں جاتیں‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ فضائی کارروائی سے افغان کسانوں کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔

کارروائی کو احتیاط سے کیا جارہا ہے، تاکہ نشانے کے اہداف کے علاوہ کم سے کم جانی نقصان ہو اور شہری آبادی محفوظ رہے۔

نکلسن نے کہا کہ ’’ہم اِن منشیات کی اسمگلنگ کی تنظیموں پر حملے جاری رکھیں گے، جو طالبان کی مدد کرتے ہیں اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کو نشانہ بنانے رہیں گے‘‘۔

افغان فوج کے چیف آف اسٹاف، جنرل شریف یفتالی نے طالبان کے خلاف کی جانے والی کارروائی کا خیرمقدم کیا، جسے اُنھوں نے ’’جرائم پیشہ گروپ‘‘ قرار دیا، جو منشیات کے کاروبار سے فائدہ اٹھاتا ہے۔

گذشتہ ہفتے، اقوام متحدہ نے اعلان کیا تھا کہ اس سال افغانستان میں منشیات کی پیداوار تقریباً دوگنا ہو کر 9000 میٹرک ٹن کے قریب پہنچ چکی ہے، جس میں سال 2016 کے مقابلے میں تقریباً 90 فی صد کا اضافہ ہوا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG