رسائی کے لنکس

logo-print

انٹرنیٹ پر داعش کے پروپیگنڈے کا مؤثر توڑ مشکل چیلنج: رپورٹ


داعش کے آن لائن پروپیگنڈہ کے بارے میں قانون کا نفاذ کرنے والے اعلیٰ اہل کاروں کا کہنا ہے کہ پیر سے چوٹی تک کی کوششیں، جن کا کبھی ہم ذکر سنا کرتے تھے، اب چند دنوں یا ہفتوں کا معاملہ بن گیا ہے، جب کہ یہ مہینوں اور برسوں کا معاملہ ہوا کرتا تھا۔ اِن کا مؤثر توڑ نکالنا کسی چیلنج سے کم نہیں

قانون کا نفاذ کرنے والے اور اعلیٰ سفارتی اہل کاروں کے مطابق، عراق اور شام میں ہونے والی فوجی سبکی کا داعش کے دہشت گرد گروپ کی جانب سے سائبر اسپیس کے میدان میں صلاحیت پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا، جہاں پیغام رسانی کے معیار اور مقدار دونوں ہی ڈرامائی طور پر بڑھے ہے۔

یہ اہل کار، جن کا کام داعش کی بھرتی کی آن لائن کوششوں کا توڑ نکالنا ہے، بدھ کے روز سینیٹ کی ہوم لینڈ سکیورٹی اور چھان بین سے متعلق سرکاری امور کی مستقل ذیلی کمیٹی کے ارکان کو بتایا کہ اُن سے سبقت کا حصول مشکل ترین معاملہ ہے، جب کہ داعش کے رہنما جارحانہ طور پر تازہ ترین تیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں۔

مائیکل اسٹائن باخ، ’ایف بی آئی‘ کے انتظامی معاون سربراہ ہیں۔ بقول اُن کے، ’’حالانکہ اس کی کوئی باضابطہ شکل نہیں، شدت پسندی کے فروغ کے لیے انتہا پسندوں کا پروگرام، چند برس قبل کے مقابلے میں بے انتہا تیزی سے پھیلتا ہے۔ تھوڑے ہی عرصے میں یہ دنیا کا خطرناک ترین گروپ بن سکتا ہے‘‘۔

امریکی حکام کے لیے داخلی پُرتشدد انتہاپسندی انتہائی تشویش کا باعث ہے، ایسے لوگ جو داعش کا پروپیگنڈہ قبول کرنے پر آمادہ ہوں، اُن پر حملوں کا ولولہ پیدا کرنے کا اثر رکھتا ہے۔

اِس وقت، ’ایف بی آئی‘ اس قسم کے تقریباً 1000 معاملات کی تفتیش کر رہا ہے، لیکن اُنھیں مشکلات درپیش ہیں چونکہ دہشت گردی پر آمادہ لوگ دیگر ہمدردوں یا کارندوں کے ساتھ باضابطہ رابطے میں نہیں ہیں۔

سٹائن باخ کے الفاظ میں’’گذشتہ برس کے دوران دیکھا جانے والا بے انتہا تشویش کا باعث انداز یہ ہے کہ یہ افراد انٹرنیٹ پر بہت تیزی سے کام دکھاتے ہیں۔‘‘

اُنھوں نے بتایا کہ پیر سے چوٹی تک کی کوششیں، جن کا کبھی ہم ذکر سنا کرتے تھے، اب چند دنوں یا ہفتوں کا معاملہ بن گیا ہے، جب کہ یہ مہینوں اور برسوں کا معاملہ ہوا کرتا تھا۔

XS
SM
MD
LG