رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ بھارت ’ملٹری لاجسٹکس‘ سمجھوتا طے ہونا باقی: کارٹر


’لاجسٹک سپورٹ اگریمنٹ (ایل ایس اے)‘ کے تحت مرمت اور رسد کی دوبارہ منتقلی کے سلسلے میں دونوں ملکوں کی فوجیں ایک دوسرے کے اڈوں کو استعمال کر سکیں گی

امریکی وزیر دفاع ایش کارٹر نے منگل کے روز کہا ہے کہ امریکہ اور بھارت نے ’’اصولی طور پر‘‘ فوجی ’لوجسٹکس‘ کے تبادلے سے اتفاق کر لیا ہے، تاہم، ’’اگلے چند ہفتوں‘‘ کے اندر کوئی باضابطہ حتمی سمجھوتا نہیں ہوپائے گا۔

’لاجسٹک سپورٹ اگریمنٹ (ایل ایس اے)‘ کے تحت مرمت اور رسد کی دوبارہ منتقلی کے سلسلے میں دونوں ملکوں کی فوجیں ایک دوسرے کے اڈوں کو استعمال کر سکیں گی۔

ایک اعلیٰ دفاعی اہل کار کے مطابق، سمجھوتے کی بدولت بغیر کسی رکاوٹ کے رابطہ کیا جا سکے گا، جس سے امریکہ بھارت کو آسانی کے ساتھ ایندھن فروخت اور آلات کے پرزہ جات فراہم کر سکے گا۔

نئی دہلی میں اپنے بھارتی ہم منصب کے ہمراہ اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، کارٹر نے بتایا کہ بھارت اور امریکہ منگل کو کسی سمجھوتے پر نہ پہنچ سکے جس کا مقصد ٹیکنالوجی کی باہمی ترقی کے دو نئے منصوبوں کا آغاز کرنا تھا، جن میں سے ایک ’ڈجیٹل ہیلمٹ ڈسپلے‘ اور ’بایولوجیکل ڈٹیکشن‘ نظام شامل تھے۔

بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ دوسرا اہم سمجھوتا، جس کا تعلق طیارہ بردار بیڑے کی ٹیکنالوجی کے تبادلے سے ہے، اُسے مکمل کرنے میں ایک یا دو مزید ملاقاتیں درکار ہوں گی۔

ایک اعلیٰ بھارتی دفاعی اہل کار کے مطابق، بھارتی بحریہ کے بیڑے میں دو ایئرکرافٹ کیریئر شامل ہیں۔ بھارت کی فوج میں تیسرا بحری بیڑا 2028ء تک تیار کیا جائے گا۔

بھارت کے دو بحری بیڑوں سے جیٹ طیاروں کی پرواز کے لیے ’ریمپ والا ’فلائیٹ ڈیک‘ استعمال ہوتا ہے، جب کہ امریکہ ایک ہموار ’ڈیک کیریئر ڈزائن‘ پر مشتمل ہے، جس کی مدد سے جیٹ طیاروں کی سمندری بیڑے سے پرواز کے لیے ’ایئرکرافٹ کیٹاپُلٹ‘ کا نظام استعمال ہوتا ہے۔

ایسے میں، جب بھارت نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا آیا نئے طیارہ بردار بیڑے پر کون سے طیارے تعینات ہوں گے، ایک اعلیٰ امریکی دفاعی عہدے دار نے کہا ہے کہ ایف 18 کی طرح کے جیٹ طیارے جو پرواز کے لیے ’کیٹاپُلٹ ٹیکنالوجی‘ استعمال کرتے ہیں، وہ ’’بہت ہی مناسب ہوں گے‘‘۔

ایک سینئر امریکی اہل کار کے مطابق، چند ہی برس قبل امریکہ نے بھارت کو دفاعی فروخت نہ کرنے پر عمل کیا تھا، اُس کے بھارت کے ساتھ اِس وقت 14 ارب ڈالر سے زیادہ کی دفاعی فروخت جاری ہے۔

کارٹر نے بتایا کہ زیر غور کچھ فوجی ٹیکنالوجی کے سمجھوتے ’’محض بھارت کے لیے مخصوص ہیں‘‘، جس کی بنیاد ’’مکمل اعتماد‘‘ پر ہے۔

کارٹر نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’’ہمارے دنیا بھر میں کسی کے ساتھ اس طرح کا کوئی بندوبست نہیں اور ہمارے زیادہ تر ٹیکنالوجی کے تبادلے کے انتظامات بھارت کے ہی ساتھ ہیں، جو ہمارے پرانے اور قریب ترین دوستوں کی سطح کے یا اُس سے بھی آگے کی سطح کے ہیں، مثال کے طور پر برطانیہ‘‘۔

بعد میں، آج ہی کے روز کارٹر نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔

امریکی حکام نے اِس بات پر زور دیا ہے کہ ’ایل ایس اے‘ اور ’کیریئر سمجھوتے‘ علاقائی اتحادی کی حیثیت سے بھارت کے ساتھ حکمتِ عملی کی اہمیت زیادہ ہے، جس کے اقدار امریکی اقدار سے مشترک ہیں۔

ایک اعلیٰ دفاعی اہل کار کے بقول، ’’جہاں تک ہمارا تعلق ہے کہ معاملہ کبھی فروخت کا نہیں رہا۔ اس کا تعلق تعلقات سے ہے‘‘۔

XS
SM
MD
LG