رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ ایران تنازع کے پاکستان اور خطے پر اثرات


امریکی صدر ٹرمپ اور ایران کے صدر حسن روحانی

اگر ایران امریکہ تنازع شدت اختیار کرتا ہے، تو ماہرین کے مطابق، اس کے پاکستان اور خطے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سے افغانستان میں جاری امن عمل کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے اور جنوبی ایشیا سمیت مشرق وسطیٰ کا علاقہ عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔

چند روز قبل، امریکہ نے ایران پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کر دی تھیں جن میں ایران سے تیل درآمد کرنے والے ممالک کو حاصل استثنیٰ ختم کرنا بھی شامل ہے۔ امریکہ ایران پر اقتصادی پابندیوں کے ساتھ ساتھ فوجی دباؤ بھی بڑھا رہا ہے۔

حال ہی میں لڑاکا طیاروں سے لیس امریکی جنگی بیڑا مشرق وسطیٰ پہنچا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں 'پیٹریاٹ میزائلوں' کی تنصیب کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

دوسری جانب ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ فوجی تصادم کے امکان کو رد نہیں کر سکتے۔

ایران امریکہ کشیدگی کے پاکستان پر اثرات

کیا اس تنازع کے پاکستان پر کوئی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟ اس کا جواب دیتے ہوئے، پاکستان کے سینئر صحافی اور کالم نگار خالد فاروقی نے وائس آف امریکہ اردو سروس کو بتایا کہ پاکستان کو پہلے ہی ایران کے معاملے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان یمن کے خلاف بننے والے سعودی قیادت کے اتحاد میں شامل ہے، جس سے ایران خوش نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم جو چاہے کہتے رہیں، جیسی تاویلیں چاہے دیتے رہیں، لیکن، جو عرب اتحاد بنا تھا، ’عسکری اتحاد‘، وہ بنیادی طور پر ایران کے خلاف بنا تھا۔ اس میں پاکستان بھی شامل ہے، تو ظاہر ہے کہ اسے ایران میں پسند نہیں کیا گیا۔ اسی وجہ سے ایران اور بھارت کے تعلقات بہتر ہیں۔

خالد فارقی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے سب سے بہتر پالیسی یہ ہو گی کہ وہ اس سارے تنازع سے دور رہے۔ ایران کے خلاف کسی کارروائی کی صورت میں پاکستان جس حد تک خود کو اس سے دور رکھے گا وہ اتنا ہی اس کے مفاد میں ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں داخلی اعتبار سے بھی یہ پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی کارروائی کا حصہ بنے۔

بفلو یونیورسٹی امریکہ میں انٹرنیشنل کمیونیکیشن کے استاد، پروفیسر فیضان حق کہتے ہیں کہ اس تنازع کا ایک اور رخ بھی ہے اور وہ ہے افغانستان۔ افغانستان کے ایک بڑے علاقے پر ایران کا بہت اثر و رسوخ ہے، اور اس ملک میں پائیدار امن اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب ہمسایہ ممالک، اپنے اپنے اثر و رسوخ کو درست طور پر استعمال کریں۔

کیا امریکہ ایران کے خلاف فوجی طاقت استعمال کرے گا؟

اس کے جواب میں پروفیسر فیضان کہتے ہیں کہ امریکہ اس تنازع کو صرف ایک حد تک ہی بڑھا سکتا ہے کیونکہ اس سے آگے جانا امریکہ کے لیے بھی نقصان دہ ہو گا، اور اس خطے کے لیے بھی، کیونکہ کشیدگی بڑھنے سے افغانستان میں امن عمل کی طرف پیش رفت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

کیا ایران امریکہ کے سامنے کھڑا ہو سکے گا؟

پروفیسر فیضان کہتے ہیں کہ ایران کا سب سے بڑا اتحادی روس ہے اور وہ ایران کے ساتھ رہے گا۔ اس لیے شاید یہ تنازع فوجی طاقت کے استعمال تک نہ جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا ماسکو جانا، اس بات کا ثبوت ہے کہ اُنہیں معلوم ہے کہ اس علاقے میں ایران کا سب سے بڑا اتحادی روس ہے۔ اور روس کسی بھی صورت میں ایران کو اکیلا چھوڑنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ جب اس نے شام میں اپنے اتحادی کو نہیں چھوڑا، تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ ایران کو تنہا چھوڑ دے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور دباؤ کے پس منظر میں جب ایران نے یہ دھمکی دی کہ وہ اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کر دے گا تو کشیدگی میں کمی لانے کے لیے امریکہ کے یورپی اتحادیوں نے دونوں فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل سے کام لیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG