رسائی کے لنکس

logo-print

ننگرہار: امریکی فضائی حملے میں داعش خراسان کا ترجمان ہلاک


فائل

ایک امریکی فوجی اہلکار نے جمعرات کے روز اس بات کی تصدیق کی کہ داعش خراسان کا سلطان عزیز اعظم اتوار 23 دسمبر کو افغانستان کے صوبہٴ ننگرہار میں کی گئی فضائی کارروائی میں ہلاک ہوا۔

امریکی فضائی کارروائی میں داعش کے دہشت گرد گروپ کا افغانستان شاخ کا ترجمان ہلاک ہوگیا ہے۔

ایک امریکی فوجی اہلکار نے جمعرات کے روز اس بات کی تصدیق کی کہ داعش خراسان کا سلطان عزیز اعظم اتوار 23 دسمبر کو افغانستان کے صوبہٴ ننگرہار میں کی گئی فضائی کارروائی میں ہلاک ہوا۔ حملے میں داعش کا ایک اور رکن بھی ہلاک ہوا۔

حملے کے نتیجے میں کسی سولین کے ہلاک ہونے کی کوئی اطلاع موصل نہیں ہوئی، جس کا اعلان سب سے پہلے افغان حکام نے کیا۔

دولت اسلامیہ خراسان کے ترجمان کو ایسے وقت نشانہ بنایا گیا جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ افغانستان سے فوج کے جزوی انخلا پر غور کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ملک میں موجود تقریباً 14000 امریکی فوجوں کا نصف ملک سے واپس جا سکتا ہے۔

جب کہ افغانستان میں زیادہ تر امریکی فوجیں طالبان کے خلاف نبردآزما افغان افواج کی مدد کر رہی ہیں، دیگر داعش خوراسان کو شکست دینے اور تباہ کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہیں۔

گزشتہ ہفتے امریکی کانگریس کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس کاوش میں پیش رفت حاصل ہو رہی ہے۔

اس سہ ماہی رپورٹ میں دولت اسلامیہ کے لیے ’داعش‘ کا مخفف استعمال کرتے ہوئے، کہا گیا ہے کہ ’’ننگرہار میں داعش خوراساں کو رقبے، قیادت، اور اہل کاروں کے لحاظ سے خاصا نقصان پہنچایا گیا ہے‘‘۔

لیکن، رپورٹ میں متنبہ بھی کیا گیا ہے کہ داعش خوراسان کے پاس اب بھی کافی لڑاکے موجود ہیں جب کہ وہ بہت سارے مسائل پیدا کرنے کی قوت رکھتی ہے۔

تاہم، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’اس نے ملک کے دیگر مقامات پر پناہ لے رکھی ہے۔ حالانکہ داعش خراسان کمزور ہو چکی ہے، زیادہ تر امکان اس بات کا ہے کہ وہ آباد علاقوں میں حملوں کی منصوبہ بندی کر سکتی ہے اور نامور لوگوں کو نشانہ بنا سکتی ہے‘‘۔

امریکی حکام کے اندازوں کے مطابق، اس سال کے ستمبر میں صوبہٴ ننگرہار میں داعش خرراسان کے 1000 سے زائد عسکریت پسند موجود ہیں، جب کہ وہ صوبہٴ جوزجان میں بھی موجود ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG