رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ طالبان مذاکرات کا نیا دور، تشدد روکنے پر توجہ مرکوز


دوحہ

امریکہ نے باضابطہ طور پر طالبان کے ساتھ مذاکرات کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے، جب کہ تین ماہ قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سال سے جاری بات چیت کے سلسلے کو اچانک بند کر دیا تھا۔ امن بات چیت کا مقصد باغی گروپ کے ساتھ سیاسی تصفیہ تلاش کرنا اور افغانستان میں لڑائی کا خاتمہ کرنا ہے۔

ایک امریکی ذریعے نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ افغان نژاد امریکی نمائندہ خصوصی برائے مفاہمت، زلمے خلیل زاد قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والی اس ملاقات میں اپنے وفد کی سربراہی کر رہے ہیں، جب کہ باغی گروپ کے مذاکرات کار دوحہ میں ہی موجود ہیں۔

امریکی ذریعے نے بتایا ہے کہ ''دوحہ مذاکرات میں امریکہ نے آج دوبارہ شرکت کی۔ مذاکرات میں دھیان تشدد کی کارروائیاں بند کرنے پر مرکوز رہے گا، جس کے نتیجے میں بین الافغان مذاکرات اور جنگ بندی کی جانب پیش رفت ہو سکے گی''۔

قطری حکومت امریکہ طالبان مکالمے کی میزبانی کر رہی تھی جب سات ستمبر کو ٹرمپ نے بات چیت کا عمل بند کر دیا تھا، جس کا سبب افغان دارالحکومت کابل میں سرکشوں کا حملہ تھا جس میں ایک امریکی سمیت کئی افراد ہلاک ہوئے۔

یہ مذاکرات ایسے وقت منسوخ ہوئے جب خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ایک اہم موڑ پر پہنچ چکے تھے جن میں دونوں فریق ایک سمجھوتا کرنے والے تھے، جس سے افغانستان سے امریکی اور اتحادی افواج کے مرحلہ وار انخلا کا معاملہ طے ہونا تھا۔

اس کے عوض، سمجھوتے میں طالبان کی طرف سے سرکشوں کے زیر کنٹرول افغان علاقوں میں انسداد دہشت گردی سے متعلق ضمانتیں دی جانی تھیں؛ اور ان یقین دہانیوں کے بعد باغیوں کو فوری طور پر بین الافغان مذاکرات میں شامل ہونا تھا، جس سے ملک میں عشروں سے جاری مخاصمانہ کارروائیاں مستقل طور پر بند ہوتیں۔

طالبان کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں جہاں سے فوجی انخلا ہوتا، اس کے عسکریت پسند غیر ملکی فوجوں کے ساتھ جنگ بندی پر عمل پیرا ہوتے۔ تاہم، طالبان اس بات پر بضد ہیں کہ افغان سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مخاصمانہ کارروائیاں بند کرنے کا معاملہ صرف اسی وقت ایجنڈے پر ہو گا جب طالبان افغان مذاکرات شروع ہوتے ہیں۔

باغی ملک گیر جنگ بندی کرنے سے کترا رہے ہیں، اس خوف کی بنا پر کہ اس سے بات چیت میں ان کے وزن میں کمی آ سکتی ہے۔

تجزیہ کار اس بات پر تذبذب کا شکار ہیں آیا خلیل زاد اس قابل ہوں گے کہ درپیش چیلنجوں پر قابو پا سکیں۔

ادھر، افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کے ایک سابق کمانڈر، جنرل جان نکلسن نے جمعے کے روز طالبان کے ساتھ کوئی معاہدہ طے کرنے کے معاملے پر متنبہ کیا جس میں طالبان کو اس بات کا پابند نہیں بنایا جاتا کہ وہ ملک گیر حملے بند کر دیں۔

ریٹائرڈ جنرل، جنھوں نے ستمبر 2018ء تک فوجی اتحاد کی سربراہی کی، واشنگٹن میں میریڈین انٹرنیشنل سینٹر کے ظہرانے کے موقعے پر خطاب کر رہے تھے، جو غیر جانبدار عوامی سفارت کاری کا ادارہ ہے۔

نکلسن نے کہا کہ ''طالبان کی جانب سے جنگ بندی کرنا، جیسا کہ ان میں سے چند نے عام بیانات میں کہا ہے، کہ اس سے ان کی اہمیت کم ہو جائے گی۔ اگر ایسا ہے تو اتحادی افواج کی جانب سے فوجی انخلا کی بات چیت میں ہماری فوجی طاقت سے متعلق وزن میں کمی کا تاثر جا سکتا ہے۔''

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG