رسائی کے لنکس

logo-print

میانمار کی نئی حکومت کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا: بلینکن


منگل کو انتونی بلینکن نے صدر تھین سین، نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کی رہنماء  آنگ ساں سوچی اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام سے ملاقات کی اور انھیں پُرامن اور کامیاب انتخابات منعقد کرنے پر مبارکباد پیش کی

امریکی نائب وزیر خارجہ، انتونی بلینکن نے کہا ہے کہ جمہوریت، ترقی اور قومی مفاہمت کے فروغ کے لئے، ان کا ملک میانمار کی نئی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

بلینکن جو گزشتہ برس ہونے والے انتخابات کے بعد پہلے امریکی نمائندے ہیں جنھوں نے میانمار کا دورہ کیا، منگل کو دارلحکومت نئیپتا میں پریس کانفرنس سے خطاب میں موجودہ حکومت پر زور دیا کہ وہ اقتدار کی منتقلی کا عمل مکمل کرے اور تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرے۔

بقول بلینکن، ’اس حکومت کی بڑی ذمہ داری ہے کہ وسیع اصلاحات کرے اور خصوصی طور پر تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرے۔ یہ ذمہ داری اس وقت پوری ہوگی جب تمام سیاسی قیدی رہا ہوجائیں گے۔۔۔ جب اقتدار کی منتقلی مکمل ہو اور نئی حکومت اقتدار میں آئے اور کوئی شخص صرف اپنے سیاسی خیالات کی وجہ سے جیل میں نہ رہے‘۔

قبل ازیں منگل کو بلینکن نے صدر تھین سین، نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کی رہنما آنگ ساں سوچی اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام سے ملاقات کی اور انھیں پُرامن اور کامیاب انتخابات منعقد کرنے پر مبارکباد پیش کی۔

حکام سے ہونے والی بات چیت کے اہم موضوعات میں معاشی چیلنج، امن عمل اور حکومت اور نسلی اقلیتوں کے درمیان سیاسی مذاکرات شامل تھے۔

تقریباً پانچ دہائیوں تک فوجی حکمرانی کے بعد آنگ ساں سوچی کی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی نے 8 نومبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں اکثریت حاصل کی ہے اور ملک کی پہلی منتخب جمہوری حکومت کا قیام عمل میں آنے والا ہے۔

XS
SM
MD
LG