رسائی کے لنکس

logo-print

شام کے کیمیائی ہھتیار تلف کرنے میں مدد کی امریکی پیشکش


کیمیاوی ہتھیاروں کی روک تھام سے متعلق تنظیم دی آرگنائزیشن فار دی پروہیبیشن آف کیمیکل ویپنز کی جانب سے ہفتے کے روز جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ امریکی حکومت شام کے کیمیاوی ہتھیار تلف کرنے کے لیے اپنی ٹیکنالوجی فراہم کرنے اور کیمیاوی ہتھیار تلف کرنے کے آپریشن میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے۔

امریکہ نے اقوام ِمتحدہ کو شام میں کیمیاوی ہتھیار تلف کرنے کے لیے مدد فراہم کرنے کی پیش کش کی ہے۔

کیمیاوی ہتھیاروں کی روک تھام سے متعلق تنظیم دی آرگنائزیشن فار دی پروہیبیشن آف کیمیکل ویپنز (او پی سی ڈبلیو) کی جانب سے ہفتے کے روز جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ امریکی حکومت شام کے کیمیاوی ہتھیار تلف کرنے کے لیے اپنی ٹیکنالوجی فراہم کرنے اور کیمیاوی ہتھیار تلف کرنے کے آپریشن میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے۔

شام میں کیمیاوی ہتھیاروں کی تلفی کی نگرانی کی ذمہ داری کیمیاوی ہتھیاروں کی روک تھام سے متعلق تنظیم او پی سی ڈبلیو پر ہے۔ یہ معاہدہ شامی حکومت کی جانب سے رواں برس اگست میں دمشق میں ایک حملے میں سیرین گیس استعمال کرنے کے بعد طے پایا جس میں تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

امریکہ اور بین الاقوامی برادری نے اس حملے کی ذمہ داری صدر بشار الاسد کی حکومت پر عائد کی تھی جبکہ اسد حکومت کا دعویٰ تھا کہ یہ حملہ باغیوں نے کیا۔

تاہم اس حملے کے بعد شام کے خلاف ممکنہ امریکی کارروائی روکنے کے لیے روس اور امریکہ کی تیار کردہ ایک قرارداد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے منظور کی تھی جس کے تحت شام کو اپنے کیمیائی ہتھیار تلف کرنے ہیں۔

اقوام ِ متحدہ اور او پی سی ڈبلیو کی ٹیم کے سربراہ سگرد کاگ کہتے ہیں کہ شام کے کیمیاوی ہتھیار تلف کرنے کے لیے ضروری ہے کہ شام کے مختلف شہروں سے کیمیاوی ہتھیار اکٹھے اور پیک کرکے شام کی سب سے بڑی بندرگاہ لاتاکیا پہنچائے جائیں۔

اس کے بعد ان ہتھیاروں کو او پی سی ڈبلیو کے بحری جہازوں میں پہنچایا جائے گا۔ جس کے بعد یہ کیمیاوی ہتھیار امریکی بحری بیٹروں میں منتقل کیے جائیں گے۔

کیمیاوی ہتھیار شام میں تباہ نہیں کیے جائیں گے۔

شام میں مارچ 2011 سے شروع ہونے والی لڑائی میں اب ایک لاکھ 20 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ اس خانہ جنگی کے باعث 20 لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔
XS
SM
MD
LG