رسائی کے لنکس

logo-print

کلنٹن کے نام خط میں حقانی کی حفاظت کو یقینی بنانے پر زور


امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نلنڈ

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نلنڈ نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ میں پاکستان پر نظر رکھنے والےسولہ ماہرین نے وزیر خارجہ ہلری کلنٹن کو ایک خط لکھا ہے جس میں ان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ سابق سفیر حسین حقّانی کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ پاکستانی حکام سے بات کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس خط کا جواب دیا جائے گا۔ ’’اس جواب کی تفصیلات میں ابھی آپ کو نہیں بتا سکتی۔ ”

ترجمان کے بقول پاکستانی حکومت پہلے ہی اس سلسلے میں امریکی حکومت کے نقطہ نظر سے واقف ہے۔

گزشتہ ہفتے میموگیٹ کےسلسلے میں وزارت خارجہ کی بریفنگ میں کہا گیا تھا کہ اگرچہ یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے لیکن امید کی جاتی ہے کہ حسین حقانی سے انصاف کے عالمی تقاضوں کے مطابق سلوک کیا جائے گا۔

وزارت خارجہ کو خط بھیجنے والوں میں ہیریٹج فاؤنڈیشن کی لیزا کرٹس بھی شامل ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ خط کا مقصد امریکہ کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت پر اکسانے نہیں بلکہ انصاف اور جمہوری روایات کی حمایت ہے۔

خط کے مندرجات میں اس بات پر تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ انسانی حقوق کی کارکن اور وکیل عاصمہ جہانگیر نے عدالت کے بنائے ہوئے کمیشن پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے حسین حقّانی کی وکیل کی حیثیت سے استعفٰی دے دیا۔

خط کے مطابق پاکستان میں کئی حلقوں نے مسٹر حقّانی کو مقدمہ چلنے سے پہلے ہی گناہ گار اور ملک کا غدّار قرار دے ڈالا ہے۔ ’’پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر، اقلیتی امور کے وزیر شہباز بھٹی اور صحافی سلیم شہزاد کے قتل کے بعد پاکستان میں عدم برداشت کا جو ماحول پیدا ہو گیا ہے اس میں بعید نہیں کہ مذہبی انتہا پسند ان (حقانی) کی جان لینے کی کوشش کریں۔

اس خط کی نقول وزیر خارجہ کے علاوہ امریکی نائب صدر جوزف بائیڈن، وزیر دفاع لیون پنیٹا، قومی سلامتی کے مشیر تھامس ڈنیلن اور سی آئی اے کے ڈائریکٹر ڈیوڈ پٹریئس کو بھی بھیجی گئی ہیں۔

دوسری طرف پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے اس بیان پر کہ میموگیٹ کے سلسلے میں فوج اور آئی ایس آئی کے سربراہان کی طرف سے عدالت میں داخل کیے گئے بیانات ’’غیر قانونی اور غیر آئینی‘‘ ہیں کیونکہ وہ متعلقہ حکام کی اجازت کے بغیر داخل کیے گئے ہیں، امریکہ محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے اور امریکہ نے اگرچہ ہمیشہ پاکستان کی سول انتظامیہ کی حمایت کی ہے لیکن اس کے فوجی انتظامیہ سے بھی اچھے تعلقات ہیں اور وہ دونوں کے درمیان بات چیت کا حامی ہے۔

XS
SM
MD
LG