رسائی کے لنکس

logo-print

بچوں کو کہانی سنائیں، انہیں عقلمند بنائیں: ماہرین ِاطفال


ماہرین ِاطفال کا کہنا ہے کہ والدین کو چاہیئے کہ وہ روزانہ اپنے بچوں کو بلند آواز میں کوئی کتاب پڑھ کر سنائیں

ننھے منے بچوں کے والدین کو اب ماہر اطفال معالج ایک نئی نصیحت کرتے دکھائی دیتے ہیں، جو ایک بہت ہی مختلف اور خلاف معمول کی سی نصیحت ہے۔

ماہرین ِ اطفال کا کہنا ہے کہ والدین کو یہ روٹین بنالینی چاہیئے کہ وہ روزانہ اپنے بچوں کو کوئی کتاب پڑھ کر سنائیں۔ ہے نا مزے کی بات؟

ماہرین کہتے ہیں کہ بچوں کو کہانیوں کی کتابیں سنانے سے آپ چھوٹی عمر سے ہی بچوں میں نہ صرف نئے الفاظ جاننے کی جستجو پیدا کرتے ہیں، بلکہ ان میں ابلاغ کی صلاحیتیں بھی ڈالتے ہیں جو بعد کی زندگی میں ان کے بہت کام آتی ہیں۔

ماہرین ِاطفال کہتے ہیں کہ بچوں کی تربیت اور ان کی پڑھنے لکھنے کی تربیت بچوں کے پنگوڑے سے ہی شروع کی جا سکتی ہے۔ والدین کو چاہیئے کہ وہ بچوں کو لوریاں دیتے ہوئے نئے لفظوں سے روشناس کرائیں، اور انہیں ان کے ابتدائی مہینوں میں ہی مختلف رنگوں سے بھی واقفیت دیں۔

ابتدائی تعلیم میں بچوں سے کھیلنا، بولنا اور ان کے ساتھ گانا گانے جیسی سرگرمیاں شامل ہیں۔

ڈاکٹر ڈینیٹ گلاسی ایک ماہر ِاطفال ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ، ’آپ یقیناً ایک دو ماہ کے بچے کو یہ نہیں سکھا سکتے کہ وہ کس طرح پڑھے، مگر اس کے ساتھ بیٹھ کر آپ اسے سمجھدار اور زیادہ عقلمند ضرور بنا سکتے ہیں‘۔

ماہرین کہتے ہیں کہ چھوٹی عمر میں پڑھنا اور کہانیاں سنانا یہ ثابت کرتا ہے کہ بچے اپنے سکول میں داخلے (پری سکول) میں کیسا رویہ رکھیں گے اور پڑھائی میں کس حد تک فعال ہوں گے۔ اور یہی ان کی زندگی کی ایسی بنیاد ہے جس پر ان کی باقی ماندہ زندگی کا انحصار ہوگا۔

2011 – 2012سنہ کے لیے امریکہ میں ’نیشنل سروے آف چلڈرنز ہیلتھ‘ کے مطابق امریکہ بھر میں غربت میں پلنے والے محض ایک تہائی بچوں کو ان کے والدین نے شروع کے پانچ سال تک کہانیاں سنانے کی روٹین اپنائی۔

سروے کے مطابق، آسودہ خاندانوں کے بچوں کے والدین میں رات کے وقت بچوں کے ساتھ بیٹھ کر کہانیاں سنانے کا عمل 60 فی صد تھا۔

یہ تحقیقی جائزہ ’امریکن اکیڈمی آف پیڈریاٹکس‘ میں شائع کیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG