رسائی کے لنکس

logo-print

آزادی مذہب قومی سلامتی کا جزو لاینفک ہے: اوباما


’جو شخص عقیدے کے نام پر کسی کو نقصان پہنچاتا ہے، وہ دراصل خدا سے اپنا تعلق کمزور کر لیتا ہے‘: بریک فاسٹ دعائیہ تقریب سے صدر کا خطاب

صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ امریکہ کی قومی سلامتی کے حوالے سے مذہبی آزادی اہمیت کی حامل ہے اور یہ کہ بیرونِ ملک آزادی مذہب کو فروغ دینا امریکی خارجہ پالیسی کا ایک اہم جزو ہے۔

مسٹر اوباما نے یہ بات جمعرات کے روز واشنگٹن میں سالانہ ’نیشنل پرایئر بریک فاسٹ‘ کے موقع پر اپنے خطاب میں کہی۔

اُنھوں نے کہا جو شخص عقیدے کے نام پر کسی کو نقصان پہنچاتا ہے، وہ دراصل خدا سے اپنا تعلق کمزور کر لیتا ہے۔

بقول اُن کے، ’دنیا بھر میں آزادی مذہب کو خطرات لاحق ہیں، اور آج صبح کی اِس تقریب میں، میں اِسی طرف دھیان مبذول کراؤں گا‘۔

’ہم دیکھتے ہیں کہ عقیدے کے معاملے پر حکومتیں امتیاز برتتی ہیں، اور شدت پسندی پر عمل پیرا ہیں۔ کبھی ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ دیگر لوگوں سے نفرت اور صعوبت روا رکھنے کے لیے مذہب کا استعمال ہوتا ہے؛ یہ انداز کہ وہ کون ہیں، وہ کیسے عبادت کرتے ہیں یا وہ کس کی تعظیم کا دم بھرتے ہیں‘۔

اُنھوں نے شرکائے محفل سے کہا کہ وہ اُن کے لیے دعا کریں جو اپنے عقائد کی بنا پر عذیت جھیل رہے ہیں، جن میں شمالی کوریا میں قید کنیتھ بائی اور ایران میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے، سعید عبادانی شامل ہیں۔

نائب صدر جو بائیڈن اور امریکی خاتونِ اول مشیل اوباما نے بھی اِس تقریب میں شرکت کی، جس کا مقصد عیسائی عقیدے کی حرمت سر بلند رکھنا ہے۔

’نیشنل پرایئر بریک فاسٹ‘ کے روح رواں سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کے ارکان ہیں، جو رسمیہ طور پر، ہر ہفتے کیپیٹول ہِل میں ملاقات کرتے ہیں۔

سنہ 1953 سے ہر سال تمام امریکی صدور اِس تقریب میں شریک ہوتے ہیں۔

اِس سالانہ تقریب میں تقریباً 130 ملکوں سے تعلق رکھنے والے مہمان شرکت کرتے ہیں، اور مہمانوں کی فہرست میں اکثر و بیشتر غیر ملکی زعماٴ اور مشہور شخصیات شریک ہوتی ہیں۔ مدر ٹریسا، سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور موسیقار بونو، اِس میں شرکت کر چکے ہیں۔
XS
SM
MD
LG