رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی اخبارات سے: اسرائیل اور فلسطین کے درمیان قیامِ امن


لاس انجلس ٹائمز میں ایک کالم میں مصنف لکھتے ہیں کہ امریکی عہدے داروں نے اسرائیل کی اندرونی سیاست کا بے حد لحاظ کیا ہے جبکہ فلسطینی سیاسی لوازمات کو حیرت انگیز حد تک نظر انداز کیا گیا ہے۔

یہاں واشنگٹن کے ایک مقتدر تحقیقی ادارے ’بروکنگز انسٹی ٹیُوٹ‘ کے ماہر اور فلسطینی انتظامیہ کے ایک سابق مشیر خالد الجندی صدر اوبامہ کے اسرائیل اور مغربی کنارے کے تازہ دورے کے بارے میں کہتے ہیں کہ اب توجّہ غالباً اس پر مبذول کی جائے گی کہ امن کا عمل پھر سے کیونکر شروع کیا جائے؟ لیکن ماضی سے اگر کُچھ سبق ملتا ہے تو وہ یہ ہے کہ فلسطینی سیاسیات پر بات چیت میں ایک کلیدی جُزو کو نظر انداز کیا جائے گا۔

لاس انجلس ٹائمز میں ایک کالم میں وہ لکھتے ہیں کہ امریکی عہدے داروں نے اسرائیل کی اندرونی سیاست کا بے حد لحاظ کیا ہے۔ جب کہ فلسطینی سیاسی لوازمات کو حیرت انگیز حد تک نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ لیکن ان عہدہ داروں کو چاہیئے کہ وہ فلسطینی سیاست میں پُھوٹ ڈالنے والے حقائق کو سمجھیں۔

پارلیمانی انتخابات میں حمّاس کے ہاتھوں صدر محمود عبّاس کو جو شکستت ہوئی تھی، اُسے سات برس ہو چُکے ہیں۔ جس کے نتیجے میں حماس کی فوجوں کے حوصلے اس قدر بڑھ گئے کہ انہوں نے غزّہ کی پٹی پر قبضہ کر لیا اور اس طرح سیاست پر فلسطینیی انتظامیہ کا تقریباً نصف صدی کا تصرُف ختم کر دیا اگرچہ عبّاس نے اپنے عُہدے سے چمٹے رہنے میں کامیاب ضرور ہوئے ہیں۔ لیکن اُن کی قیادت کے پاس اپنی عملداری کے دوران کُچھ بھی دکھانے کو نہیں ما سوائے اس کے کہ مذاکرات کے متعدد ناکام دورے ہیں۔ اُن کی حکومت کے پاس کوئی مالی وسائل نہیں اور وُہ ناکامی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔

دوسری طرف فلسطینی قومی تحریک غیر معمولی پُھوٹ کی شکار ہے۔ عبّاس کی میعادِ صدارت کب کی ختم ہو چُکی ہے اور فلسطینی پارلیمنٹ کا پچھلے چھ سال میں ایک اجلاس بھی منعقد نہیں ہوا ہے۔ جس سے فلسطینی سیاست کے مفلوج ہونے اور فلسطینی قیادت کے گرتے ہوئے اخلاقی جواز کا اندازہ ہوتا ہے۔ چنانچہ فلسطینیوں کو اس پُھوٹ کی شکار اور بے اثر قیادت پر سخت مایوسی ہے۔ اور اس پر بھی کہ اسرائیل نے فلسطینیوں کو دبا رکھا ہے اور وُہ آباد کاروں کی بستیوں پر بستیاں بنارہا ہے۔ اور نام نہاد امن کاعمل بھی اس میں اضافہ کر رہا ہے۔

تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ ان تمام باتوں کے باوجود امریکہ کے طرز ِعمل سے ایسا لگتا ہے کہ جیسے عبّاس کی مغربی کنارے کی قیادت کو کسی سیاسی مخالفت یا رائے عامہ کو جواب نہیں دینا۔ امریکی پالیسی سازوں نے فلسطینی سیاست کو ایک ایسی چیز سمجھ رکھا ہے جسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے اور امن کے عمل کا جو تصوُر باندھا گیا ہے اگر اس میں رعایت دینے کی ضرورت پیش آئے تو وُہ فلسطینی سیاسیات کو دینی ہے نہ کہ دوسرے فریق کو۔ اس وقت بھی امریکہ کا دباؤ فلسطینی لیڈروں پر ہے کہ وہ مذاکرات میں واپس آئیں باوجود اس کے کہ کامیابی کا امکان بہت کم ہے۔

مضمون نگار کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سارے معاملے میں حماس اور یا کسی اور سیاسی تنطیم کو نظر انداز کرنا اندرونی خلفشار کو جاری رکھنے کا نُسخہ ہے اور جیسا کہ غزّہ کی حالیہ لڑائی سے ظاہر ہو گیا ہے کہ ایک طرف حماس کو الگ تھلگ کرنا اور دوسری طرف مغربی کنارے پر فلسطینی انتظامیہ کی پرورش کرنے کا نتیجہ ڈرامائی ناکامی کی صُورت میں نکلا ہے۔

دوسرے لفظوں میں اس وقت بین الاقوامی سطح پر حماس کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ قبولیت حاصل ہے جبکہ فلسطینی انتظامیہ ناکامی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ مضمون نگار کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو امریکہ کے ساتھ جو خاص رشتہ حاصل ہے وُہ فلسطینیوں کوحاصل نہیں۔ اُن کی قیادت کمزور اور پُھوٹ کا شکار ہے اور عوام میں اس کی مقبولیت مشکوک ہے۔ لہٰذا وُہ اسرائیل کے ساتھ ایک جامع سمجھوتے کے لئے مذاکرات کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

ایران کے خلاف اقتصادی تعزیرات پر ’کرسچن سائینس مانیٹر‘ کہتا ہے کہ ایران کے سرکاری عہدہ داروں کو اعتراف ہے کہ ان کی وجہ سے مُلک کو نُقصان پہنچ رہا ہے۔۔ لیکن اخبار کہتا ہے کہ اس دباؤ کے باوجود یہ اقتصادی دباؤ ایرانی جوہری پیش رفت پر اثر انداز ہونے میں ناکام رہا ہے۔ اور یہ حقیقت امریکہ اور ان تعزیرات کی حمایت کرنے والے یورپی ممالک پر آشکار ہو رہی ہے۔ بلکہ شائد ان پابندیوں کی وجہ سے ایرانی جوہری پیشرفت میں تیزی آئی ہو اخبار کہتا ہے کہ یہ انکشاف ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے جو تیس ایرانی عہدہ داروں، تجزیہ کاروں اور تاجروں کے ساتھ تفصیلی انٹرویوز کے بعد تیار کی گئی ہے۔ اور جس سے واضح ہوتا ہے کہ ایران کیوں مغربی پالیسی سازوں کے دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکا رہا۔
XS
SM
MD
LG