رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: ہزارہ برادری کا قتل ِعام


حقوقِ انسانی کے ادارے ’ہیومن رائٹس واچ‘ کے اعداد و شمار کے مطابق، 2008ء سے اب تک ہزارہ قبیلے کے 300سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا گیا ہے

کوئٹہ میں ہزارہ شیعہ برادری کے 83 ارکان کے بم دھماکوں میں قتلِ عام کی واردات پر ’نیو یارک ٹائمز‘ کہتا ہے کہ حالیہ برسوں میں شہر کے ہزارہ ٹاؤن میں اس قسم کے متعدد حملے ہوئے ہیں جِن کے لیے سنی انتہا پسند موت کے سوداگروں کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ شیعہ برادری میں عدم تحفظ اور لاچارگی کے بڑھتے ہوئے احساس کی ترجمانی ملک کے لیڈروں کے بیانات سے ظاہر ہے۔ ایک شیعہ لیڈر علامہ اصغر عسکری نے ملک کے امن نافذ کرنے والوں کو اسلام آباد میں ایک تقریر میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر امن و امان کے ذمہ دار لوگوں نے نیک نیتی سے عسکریت پسندوں کے مضبوط گڑھوں کے خلاف کاروائی کی ہوتی تو ہمیں یہ دِن دیکھنا نہ پڑتا۔

اخبار کہتا ہے کہ بلوچستان کی پولیس اور صوبے کے نیم فوجی دستے کڑی نقطہ چینی کا نشانہ بنے ہیں کیونکہ تشدد کی وارداتیں بڑھتی گئی ہیں، جِن کے لیے انتہا پسند سنی تنظیم لشکر جھنگوی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

اخبار کے بقول، اِن جنگجوؤں نے کوئٹہ کو ہزارہ قبیلے کے افراد سے پاک کرنے کا عہد کر رکھا ہے۔اِن ہلاکتوں کی وجہ سے اب تک ، 20000 ہزارہ شہر چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔

حقوقِ انسانی کے ادارے ’ہیومن رائٹس واچ‘ کے اعداد و شمار کے مطابق، 2008ء سے اب تک ہزارہ قبیلے کے 300سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا گیا ہے۔

پاکستان کی حقوقِ انسانی کے کمیشن میں اس علاقے کے نمائندے طاہر حسین کے حوالے سے اخبار کہتا ہے کہ حملہ آور عسکریت پسندوں کی بھاری تعداد مستونگ ضعلے میں موجود ہے اور یہ کہ فرنٹیئر کور نے اُن کے اِس مضبوط گڑھ کے خلاف کاروائی کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں لی ہے باوجود یہ کہ اُنھیں معلوم ہے کہ ظلم کون ڈھا رہا ہےاور امن کا نفاذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ عہدے داروں نے کھوکھلی یقین دہانیوں کے علاوہ کوئی کاروائی نہیں کی۔

’نیو یارک ٹائمز‘ کے صفحہ ٴ اول پر ایک تصویر چھپی ہے جِس میں کوئٹہ کے قتلِ عام میں ہلاک ہونے والے افراد کے لیے اجتماعی قبروں کی کھدائی دکھائی گئی ہے۔

اوبامہ انتظامیہ کا ایک کروڑ سے زیادہ غیر قانونی تارکینِ وطن کے مستقبل کے بارے میں جو منصوبہ ہے اُس پر ’یو ایس اے ٹوڈے‘ کہتا ہے کہ اِس کے تحت ان تارکین وطن کو آٹھ سال کے اندر گرین کارڈ مل جائے گا اور وہ مستقل سکونت کا درجہ حاصل کر سکیں گے اور بالآخر اُنھیں امریکہ کی شہریت بھی حاصل ہو جائے گی۔

اِس منصوبے کے تحت سکیورٹی کی فنڈنگ بڑھا دی جائے گی اور کاروباری اداروں کے مالکان کے لیے لازمی ہوگا کہ جب وہ کسی نئے آدمی کو بھرتی کریں تو چار سال کے اندر اُس کے امی گریشن کے رُتبے کی تفتیش کرائیں۔ اس کے علاوہ ملک کے ایک کروڑ دس لاکھ غیر قانونی تارکینِ وطن نئے ویزا کے لیے درخواست دے سکیں گے جو متوقع تارک وطن کے لیے قانونی ویزا کہلائے گا۔

اگر اُن کی درخواست منظور کی گئی اور اگر اُن کے بیوی بچے امریکہ سے باہر مقیم ہوں تو وہ اُن کے لیے بھی اسی قسم کی درخواست دے سکیں گے۔

ایک ممتاز ریپبلیکن سینیٹر مارکو روبیو نے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے لیے کانگریس کے ری پبلیکن ارکان کی رائے پوچھے بغیر امی گریشن کے قوانین مرتب کرنا غلطی ہوگی۔

’انٹرنیشنل ہیرلڈ ٹربیون‘ کے مطابق ونزویلا کے صدر ہوگو شاویز کیوبا میں دس ہفتے سرطان کا علاج کرانے کے بعد واپس ونزویلا پہنچ گئے ہیں جس پر اُن کے حامی شادیانے منا رہے ہیں۔

اٹھاون سالہ شاویز 11دسمبر کو اوپریشن کرانے کے بعد نظروں سے اوجھل رہے ہیں اور نہ ہی اُنھوں نے کوئی بیان دیا ہے۔ کیوبا سے سابقہ واپسیوں کے برعکس حکومت نے ٹیلی ویژن پر اُن کی ونیزویلا آمد کی کوئی تصویر نہیں دکھائی اور نہ ہی اُنھوں نے قوم سے خطاب کیا ہے، جس پر اُن کے عہدے داروں نے کہا ہے کہ اُن کے نرخرے میں سانس لینے کی ایک نلکی لگی ہوئی ہے۔

مسٹر شاویز سات اکتوبر کو دوبارہ صدر منتخب ہوئے تھے، لیکن آٹھ دسمبر کو اعلان کیا گیا کہ وہ سرطان کا علاج کرانےکے لیے واپس کیوبا پہنچ گئے ہیں۔

اُن کی غیرحاضری میں ملک کی باگ ڈور نائب صدر، قومی اسمبلی کے صدر اور وزیروں کے ہاتھ میں تھی جس پر حزب اختلاف نے سخت احتجاج کیا ہے اور اِس انتظام کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔
XS
SM
MD
LG