رسائی کے لنکس

خلا میں امریکہ روس تنائو کا اثر زائل ہو جاتا ہے


امریکی خلاباز جیک فشر (ہاتھ ہلاتے ہوئے)، روسی خلانورد فیودور یورچیخن کے ساتھ (فائل)

امریکہ اور روس کے درمیان تنائو، تعزیرات، الزام در الزام کے سلسلے کے باوجود، بدھ کے روز دو امریکی خلانوردوں نے قزاقستان میں دو روسی خلابازوں کے ہمراہ 'بین الاقوامی خلائی مرکز' جانے کے لیےخلائی گاڑی سے پرواز بھری۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اُس وقت بھی جب دونوں ملکوں کے مابین معاملات بدتر ہو جاتے ہیں، اُن کے خلائی پروگرام پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

سنہ 2011 میں امریکہ کا 'اسپیس شٹل پروگرام' بند ہوا۔ تب سے لے کر اب تک خلابازوں کو 'بین الاقوامی اسپیس اسٹیشن' پہنچانے کے لیے امریکہ مکمل طور پر روس پر انحصار کرتا ہے۔

سنہ 2014 میں جب روس نے کرائیمیا کو ضم کیا اور صدر براک اوباما نے روس کے خلاف تعزیرات عائد کیں، تو روس کے معاون وزیر اعظم، دمتری روگوزن نے مشورہ دیا کہ اب امریکی خلابازوں کو چٹائی پہ بیٹھ کر بین الاقوامی خلائی مرکز جانا ہوگا۔

تاہم، خلا میں تعاون کا پروگرام جاری رہا۔

کیتھلین لیوس، 'نیشنل ایئر اینڈ اسپیس میوزئم' میں خلا اور تاریخ کے محکمے کی سرپرست ہیں۔ بقول اُن کے، ''سیاستدان بھلے مانس ہوتے ہیں۔ وہ اپنے بیانات دیتے ہیں۔ لیکن، اس کا بین الاقوامی خلائی مرکز کے روزمرہ کے کاموں پر کسی قسم کا کوئی اثر نہیں پڑتا''۔

سرد جنگ کے ساتھی

امریکہ روس کے درمیان خلا کے میدان میں تعاون ستر کی دہائی میں اُس وقت شروع ہوا جب سرد جنگ جاری تھی۔

چاند پر جانے کی دوڑ کے دوران دونوں فریق کو نقصان اٹھانا پڑا۔ سنہ 1967میں 'لانچ پیڈ' پر لگنے والی آگ کے نتیجے میں پہلے 'اپالو' مشن میں شامل تین امریکی خلاباز ہلاک ہوئے۔ ایک سال بعد، ایک حادثے میں سویت یونین کا ایک خلانورد ہلاک ہوا۔

دونوں فریق نے خلائی پراجیکٹ میں تعاون پر اتفاق کیا۔ سنہ 1975 میں امریکی 'اپالو' خلائی گاڑی اور روسی 'سویوز اسپیس کرافٹ' کی مدار میں ملاقات ہوئی، جہاں خلانوازوں اور خلانوردوں نے ہاتھ ملایا۔

سیاسی کامیابی کے ساتھ ساتھ یہ انجنیئرنگ کی دنیا کا کمال درجے کا اہم کارنامہ تھا، جس میں دونوں خلائی گاڑیوں کو ایسی باریک بینی کی صلاحیت سے ہم آہنگ کیا گیا۔

لیوس نے کہا کہ ''اِس سے نہ صرف ایک نئے بندھن کا اضافہ ہوا، بلکہ ایسا علم ہاتھ آیا جس سے یہ کارنامہ ممکن بنا، حالانکہ یہ وہ دور تھا جب سرد جنگ زوروں پر تھی، اور شاید یہ سرد جنگ کا بدترین دور تھا۔ دونوں فریق مل کر ایسا کارنامہ کر سکتے تھے، جب کہ اُن پر ارد گرد کی سیاست کا کوئی اثر نہیں پڑا''۔

زمین سے بالائی دنیا تک رسائی

آج امریکہ، روس اور 13 دیگر ملک 'انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن' کے منصوبے کے سلسلے میں اشتراکِ عمل پر گامزن ہیں۔

لیوس کہتی ہیں کہ جب انسان زمیں سے کہیں دور کی وسعتوں میں چلا جائے گا، تو ممکنہ طور پر تعاون کا معاملہ انتہائی ناگزیر ہو جائے گا۔

بقول اُن کے، ''چاند یا مریخ کو انسانی آبادی کے رہنے کے قابل بنانے کے لیے بہت سارے وسائل درکار ہوں گے''۔

اِس وقت یہ شراکت داری محض 'بین الاقوامی خلائی مرکز' پر خلاباز پہنچانے تک محدود ہے۔ تاہم، 'اسپیس ایکس' اور 'بوئنگ' کو توقع ہے کہ سال بھر کے اندر، یا کچھ دیر بعد، امریکی سرزمین سے انسانوں کو خلائی دنیا تک پہنچانے کی صلاحیت پیدا ہو چکی ہوگی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG