رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ نے یروشلم میں اپنا قونصل خانہ بند کر دیا


فائل فوٹو

امریکہ نے یروشلم میں اپنا قونصل خانہ بند کر دیا ہے اور اسے پیر کو یروشلم میں شروع ہونے والے سفارتخانے میں ضم کر دیا جائے گا۔

یہ قونصل خانہ ایک عرصے تک فلسطینیوں کے لیے امریکہ کے ساتھ رابطے کا ایک بڑا ذریعہ رہا ہے۔

اتوار کو امریکہ کے محکمہ خارجہ کی طرف سے جاری ایک یبان کے مطابق قونصل خانے کو بند کرنا ’’یروشلم پر امریکی کی پالیسی میں کسی تبدیلی کا اشارہ نہیں ہے‘‘۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’یہ فیصلہ ہمارے سفارتی تعلقات اور کارکردگی کو زیادہ موثر بنانے کی عالمی کوششوں کا حصہ ہے‘‘۔

امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے یروشلم میں امریکی قونصل خانے کو بند کرنے کا اعلان گزشتہ اکتوبر میں کیا تھا جس پر فلسطینیوں نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس قونصل خانے کو بند کر کے اس کو سفارت خانے میں ضم کرنا ٹرمپ انتظامیہ کی فلسطینیوں کے بقول اسرائیل نواز پالیسی کی غمازی کرتا ہے۔

ایک سینیئر فلسطینی رہنما صائب عریقات نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے امریکہ کی ’’مشرق وسطیٰ میں امن قائم کرنے میں ناکامی سے تعبیر کیا ہے‘‘۔

تاہم محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ اس اقدام سے (امریکی پالیسی میں) کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے اور اس کے سفارت کاروں کی ایک بڑی ٹیم کی وجہ سے ’’اسرائیل میں سب کو مدد کرنے میں اس کی ٹیم کی کارکردگی اور زیادہ موثر ہو گی‘‘۔

فلسطینیوں نے امریکہ کی طرف سے اپنے سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کے اعلان پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اس اقدام کو یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے مترادف قرار دیا تھا۔

فلسطینی یروشلم کو اپنے مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت قرار دیتے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ یروشلم کی حیثیت کا تعین امن مذاکرات سے ہونا چاہیئے۔

امریکہ کے محکہ خارجہ کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے حتمی معاملات پر کوئی موقف اختیار نہیں کیا ہے اور وہ یہودیوں اور فلسطینیوں کے درمیان پائیدار امن کے لیے ہونے والی کوششوں کے لئے پُرعزم ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG