رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کا بعض پاکستانی عہدے داروں کو ویزے کا اجرا روکنے کا عندیہ


فائل فوٹو

امریکہ نے پاکستان کو اُن دس ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا ہے جن پر امریکہ میں قیام کی مدت گزر جانے کے بعد ڈی پورٹ ہونے والے شہریوں کو واپس قبول نہ کرنے کی صورت میں اُنہیں امریکی ویزے جاری نہیں کیے جائیں گے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے جمعہ کے روز تصدیق کی کہ اس پابندی کے باوجود اسلام آباد میں موجود امریکی سفارتخانے کا قونصلر سیکشن معمول کے مطابق کام کرتا رہے گا۔ تاہم اس سلسلے میں جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق پاکستان کے اُن اعلیٰ سرکاری اہل کاروں کے ویزے بھی روک لیے جائیں گے جو ڈی پورٹ ہونے والے اور اپنے ویزے کی مدت سے زیادہ عرصہ امریکہ میں گزارنے والے شہریوں کو واپس لینے کے ذمہ دار ہیں۔

جن دس ممالک پر ویزے کی پابندیاں عائد ہیں اُن میں گیانا، گیمبیا، کیمبوڈیا، ایری ٹریا، گنی، برما، لاؤس اور سیرالیون شامل ہیں، جب کہ پاکستان اور گھانا کو اس سال فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

امریکہ کے امیگریشن اور قومیت کے قانون کے تحت امریکی ہوم لینڈ سیکورٹی کے وزیر ایسے ممالک کو امیگریشن اور نان امیگریشن دونوں طرح کے ویزوں کا اجرا ختم کر سکتے ہیں جو امریکہ میں ویزے کی میعاد ختم ہونے کے بعد بھی امریکہ میں رک جانے والے شہریوں کو ڈی پورٹ کرنے کی صورت میں قبول کرنے سے انکار کریں یا پھر اس سلسلے میں غیر معمولی تاخیر کا مظاہرہ کریں۔

اسلام آباد میں موجود امریکی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ فیڈرل رجسٹر میں جس معاملے کا تذکرہ کیا گیا ہے وہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ معاملہ ہے اور اسے بات چیت کے ذریعے حل کر لیا جائے گا۔ تاہم اس سلسلے میں فی الحال مزید تفصیلات جاری نہیں کی جا سکتیں۔

پاکستانی اخبار ’’ڈان‘‘ کے مطابق پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان ڈی پورٹ ہونے والے شہریوں کو واپس قبول کرنے کے اُصول پر سو فیصد قائم ہے۔ تاہم اُن کا کہنا تھا کہ جن شہریوں کے پاس اپنی پاکستانی شہریت ثابت کرنے کے لیے قانونی دستاویزات موجود ہیں اُنہیں بغیر کسی تامل کے واپس قبول کیا جاتا ہے اور مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں کوئی ڈی پورٹ ہونے والا شخص اپنی پاکستانی شہریت کو ثابت نہ کر پائے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسے کیسز میں پاکستان میں کچھ عرصہ رہنے والے افغان پناہ گزیں اور کئی نسلوں سے مشرق وسطیٰ میں آباد پاکستانی شامل ہیں۔ پاکستانی اہل کاروں کے مطابق ویزے پر لگنے والی ان پابندیوں سے پاکستانی وزارت داخلہ کے بعض اہل کار متاثر ہو سکتے ہیں جو ڈی پورٹ ہونے والے شہریوں کے لیے انتظامات کرنے کے مجاذ ہیں اور دیگر عام شہری غالباً اس سے متاثر نہیں ہوں گے۔

تاہم امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی سمیت تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس امریکی اقدام سے بہت سے پاکستانیوں کے لیے امریکی ویزے کا حصول مشکل ہوتا جائے گا جو امریکہ کا سفر کرنا چاہتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ امریکی قانون عرصہ دراز سے موجود تھا۔ تاہم اس پر عمل درآمد حالیہ برسوں میں شروع ہوا اور صدر ٹرمپ کے دور میں اس پر عمل درآمد میں تیزی دیکھی گئی ہے۔

ماضی میں بھارت سمیت دیگر ممالک نے ڈی پورٹ ہونے والے اپنے شہریوں کو واپس لانے کے لیے جہاز روانہ کیے تھے۔ تاہم پاکستانی حکام کی طرف سے اس بارے تاخیر کا مظاہرہ کیا جاتا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG