رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کا جنوبی سوڈان میں امن کے لیے کردار کم کرنے کا فیصلہ


فائل فوٹو

جنوبی سوڈان میں امریکہ کے ایلچی ڈونلڈ بوتھ نے خبردار کیا ہے اگر فریقین نے عبوری حکومت سے متعلق معاہدے پر عمل نہ کیا تو ملک پر اقوام متحدہ کی طرف سے پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں

جنوبی سوڈان کی حکومت اور باغیوں دونوں کی جانب سے عبوری حکومت کے قیام سے متعلق معاہدے کی خلاف ورزیوں کے بعد امریکہ نے ان کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں اپنا کردار کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکہ کے محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ ہفتے کو حکومت نے حزب اختلاف کے رہنما ریک ماچار کو لانے والے ایک طیارے کو ایئرپورٹ پر اترنے کی اجازت نہیں دی کیونکہ وہ پہلے سے طے شدہ تعداد سے زیادہ ہتھیار اور جنگجو اپنے ساتھ لانا چاہتے تھے۔

’’ان کو واپس آنے سے روکنے یا اس میں تاخیر کرنے کے لیے دونوں طرف سے کیے جانے والے اقدامات کے پیش نظر یہ ذمہ داری اب فریقین پر عائد ہوتی ہے کہ وہ (عبوری حکومت) کے قیام کے لیے ریک ماچار کی جُبا واپسی کو ممکن بنائیں اور اس بات کا مظاہرہ کریں کہ وہ امن کے لیے حقیقی طور پر پُرعزم ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ مستقبل میں بھی جنوبی سوڈان کے سلامتی اور اقتصادی مسائل کے حل کے لیے امریکہ کی مدد کا ’’انحصار دونوں فریقین کی طرف سے معاہدے پر عمل کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کے مظاہرے پر ہو گا۔‘‘

اگست میں جنوبی سوڈان کے صدر سلوا کیر اور ریک ماچار نے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت دنوں فریقین نے ایک عبوری حکومت بنانے پر اتفاق کیا تھا جس میں ریک ماچار کو نائب صدر کا عہدہ دیا جانا تھا۔ وہ پہلے بھی اس عہدے پر فائز رہ چکے ہیں مگر دسمبر 2013 میں سلوا کیر نے ان پر حکومت کا تختہ پلٹنے کی سازش کا الزام عائد کیا تھا۔

ان الزامات کے بعد ملک میں خانہ جنگی شروع ہو گئی تھی جس میں ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں اور 20 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

جب جنگ شروع ہوئی تو ریک ماچار ملک سے فرار ہو گئے تھے مگر انہیں امن معاہدے کے تحت 18 اپریل کو ملک واپس پہنچنا تھا۔ تاہم وہ اس تاریخ کو واپس نہیں آئے۔

توقع ہے کہ اب وہ پیر کو جُبا پہنچیں گے۔ یہ تیسری مرتبہ ہے جب ان کی واپسی کی تاریخ مقرر کی گئی ہے مگر جنوبی سوڈان میں امریکہ کے ایلچی ڈونلڈ بوتھ نے خبردار کیا ہے اگر فریقین نے معاہدے پر عمل نہ کیا تو ملک پر اقوام متحدہ کی طرف سے پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل منگل کو اس بحران اور اس کے ممکنہ نتائج کا جائزہ لے گی۔

XS
SM
MD
LG