رسائی کے لنکس

کابل سے 24 گھنٹوں میں 28 پروازوں کے ذریعے دس ہزار سے زیادہ افراد کا انخلا


کابل ایئر پورٹ سے روانگی کے لیے افغان مہاجرین طیارے میں سوار ہونے کے لیے قطار میں کھڑے ہیں۔ 22 اگست 2021

امریکی فوج نے کہا ہے کہ پیر کا دن افغانستان سے انخلاء کے لحاظ سے سب سے اہم دن رہا، لیکن دوسری جانب ایئرپورٹ پر ہلاکت خیز تشدد سے خوف و ہراس کی صورت حال پیدا ہوئی۔ ایک اور خبر کے مطابق طالبان کی جانب سے یہ اشارے ملے ہیں کہ وہ جلد ہی انخلا روکنے کے اقدامات کریں گے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ 28 امریکی فوجی پروازوں کے ذریعے اتوار سے پیر کی صبح تک 24 گھنٹوں کے دوران تقریباًدس ہزار افرادچارسو افراد کو کابل سے نکال کر محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا۔

پینٹاگان کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ انخلاء کی تیز رفتاری کی وجہ کچھ حد تک ہوائی اڈے میں داخلے کے لیے طالبان کمانڈروں کے ساتھ ہونے والے رابطے ہیں۔

کربی کا کہنا تھا کہ، "اب تک، اور آئیندہ بھی طالبان کے ساتھ مسلسل رابطے اور تنازعے سے بچنے کی ضرورت ہے۔" انہوں نے کہا کہ اب تک اس حکمت عملی کی مدد سے لوگوں کو ہوائی اڈے کے اندر آنے اور باہر موجود ہجوم کو کم کرنے میں مدد ملی۔"

ایک ہفتے سے زائد عرصے کے بعد، نہ صرف پہلی بار امریکی اندازوں کے مطابق کابل سے باہر بھیجے جانے والوں کی تعداد پوری ہوئی بلکہ بڑھ گئی۔ امریکی فوجی طیاروں کے ذریعے بیرون ملک بھیجے جانے والے افراد کی تعداد گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 3،900 کے مقابلے میں دوگنا سے بھی زیادہ رہی۔

جان کربی نے کہا کہ امریکی فوجیوں میں سے لگ بھگ 5,800 فوجی کابل کے ہوائی اڈے سے باہر بھیجے جا رہے ہیں تاکہ امریکی شہریوں کو جہاں اور جب ممکن ہو نکال کر لے آئیں۔

جمعے اور پیر کے روز کابل کے مختلف علاقوں سے لوگوں کو نکال کر ائیر پورٹ پہنچانے کے لئے امریکی فوجیوں نے ہیلی کاپٹر استعمال کئے تھے۔

کابل کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے ارد گرد سیکیورٹی کی صورتِ حال اس وقت ایک امتحان بن گئی جب ایک نامعلوم مسلح شخص نے گیٹ کی حفاظت کرنے والی افغان فورسز پر فائر کھول دیا جس سے ایک افغان فوجی ہلاک ہو گیا۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان نے کہا ہے کہ اس نے نیو جرسی میں چوتھا امریکی فوجی اڈہ بھی افغان مہاجرین کے عارضی قیام کے لیے کھول دیا ہے۔

اس سے قبل ریاست ورجینیا، ٹیکساس اور وسکانسن میں تین فوجی تنصیبات پر مہاجرین کے عارضی قیام کے لیے انتظامات کیے گئے ہیں۔

علاقائی آپریشنز کے جوائنٹ سٹاف کے ڈپٹی ڈائریکٹر میجر جنرل ہینک ولیمز نے صحافیوں کو بتایا کہ ان فوجی اڈوں پر اب تقریبا ً 1200 افغان پناہ گزین موجود ہیں۔

ترجمان جان کربی نے بتایا کہ ان چار فوجی اڈوں پر مشترکہ طور پر 25 ہزار افغان پناہ گزینوں کے لیے گنجائش پیدا کی گئی ہے۔

14 اگست کے بعد سے پیر تک امریکہ تقریباً 37 ہزار لوگوں کو افغانستان سے نکال کر مختلف مقامات پر پہنچا چکا ہے جہاں انہیں ضروری سہولیات مہیا کی جا رہی ہیں۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ وہ روزانہ پانچ سے 9 ہزار افراد کو کابل سے پروازوں کے ذریعے بیرون ملک بھیج رہی ہے۔

مشی گن سے ڈیموکریٹک رکن کانگریس اور انٹیلی جنس کی سابق عہدے دار الیسا سلوکٹن اور افغانستان سے اپنے خاندانوں اور ساتھیوں کو نکالنے کی کوشش کرنے والوں نے ٹوئٹس کے ذریعے امریکی فورسز پر زور دیا ہے کہ وہ کابل ایئرپورٹ کے دروازے کھلے رکھیں اور ان تک رسائی کو ممکن بنائیں۔

سلوکٹن کا کہنا تھا کہ ملک چھوڑنے کے خواہش مند ہر افغان باشندے کو باہر نکالنے کے موجودہ بندوبست سے بظاہر خواتین کے لیے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

صدر بائیڈن اور ان کے مشیر متعدد بار یہ کہہ چکے ہیں کہ انتہاپسند گروپ کابل ایئرپورٹ کے آس پاس افراتفری پھیلانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

بائیڈن انتظامیہ نے ابھی تک اس بارے میں ٹھوس اندازے پیش نہیں کیے کہ کتنے امریکی باشندے افغانستان سے نکلنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG