رسائی کے لنکس

پاکستان اور بھارت بات چیت کے ذریعے تناؤ کم کریں: امریکہ


محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیدر نوئرٹ

امریکہ کے محکمۂ خارجہ کی ترجمان کے بیان پر بھارت یا پاکستان کی طرف سے تاحال کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

امریکہ نے بھارت اور پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ باہمی تناؤ کو کم کرنے کے لیے آپس میں بات چیت کریں۔

امریکہ کے محکمۂ خارجہ کی ترجمان ہیدرنوئرٹ نے یہ بات بدھ کو معمول کی پریس بریفنگ کے دوران اس وقت کہی جب ان کی توجہ بھارت اور پاکستان کے درمیان لائن آف کنٹرول پر حالیہ ہفتوں میں ہونے والے فائرنگ کے تبادلے میں دونوں جانب سکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کی ہلاکتوں کے معاملے کی طرف دلائی گئی۔

نوئرٹ نے کہا کہ "ہم یہ سمجھتے ہیں کہ دونوں ملکوں کو یقیناً بیٹھ کر اس معاملے پر بات چیت کرنی چاہیے۔"

امریکہ کے محکمۂ خارجہ کی ترجمان کے بیان پر بھارت یا پاکستان کی طرف سے تاحال کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

اس سے قبل بھی امریکہ، بعض دیگر ممالک اور اقوامِ متحدہ اسلام آباد اور نئی دہلی پر ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کے لیے زور دیتے رہے ہیں۔

پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ وہ نئی دہلی کے ساتھ کشمیر سمیت تمام معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر تیار ہے۔

جب کہ بھارت کا موقف ہے کہ وہ اس وقت تک بات چیت نہیں کرے گا جب تک دہشت گردی سے متعلق اس کے خدشات اور تحفظات دور نہیں کیے جاتے۔

واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں بھارت اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کو ایک دوسرے سے جدا کرنے والے لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے تبادلے کے واقعات تواتر سے رونما ہو رہے ہیں۔

ان واقعات پر بین الاقوامی برداری کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ ان واقعات کی وجہ سے صورتِ حال کسی بھی وقت کنٹرول سے باہر ہو سکتی ہے جو جنوبی ایشیا کے امن و سلامتی کے لیے کسی طور مفید نہیں ہے۔

پاکستانی فوج کے دعوے کے مطابق منگل کو بھی بھارتی فوج کی" بلااشتعال فائرنگ "سے بھمبھر سیکٹر میں اس کے دو اہلکار ہلاک ہوئے۔

پاکستانی فوج کے محکمۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری بیان کے مطابق جوابی کارروائی میں بھارتی چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم اس بارے میں مزید تفصیل سامنے نہیں آئی۔

بھارت کی طرف سے پاکستانی فوج کے بیان پر تاحال کوئی ردِ عمل نہیں آیا ہے تاہم دونوں ملک ایک دوسرے پر جنگ بندی کے سمجھوتے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فائرنگ میں پہل کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر فائربندی کا معاہدہ 2003ء میں ہوا تھا لیکن اس کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان فائرنگ و گولہ باری کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے جس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان معمول کے اعلیٰ سطح کے رابطے بھی معطل ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG