رسائی کے لنکس

سابق امریکی فوجیوں کی زبوں حالی


Returning US Troops
Returning US Troops

برینڈا سمتھ کہتی ہیں کہ انہیں معلوم نہیں کہ عراق اور افغانستان سے لوٹنے والے امریکی فوجیوں کا مستقبل کیا ہوگا لیکن ان کا کہناہے کہ سابق فوجیوں کو معمول کی زندگی میں واپس لانے اور اپنے پاؤں پر پھر سے کھڑا کرنے میں حکومت اور معاشرے کو ان کی مدد کرنی چاہیے۔

عراق سے تقریباً تمام امریکی فوجی وطن واپس آچکے ہیں جب کہ افغانستان سے 2014ء تک زیادہ تر فوجیوں کی اپنے گھروں کو واپسی متوقع ہے۔ 1970ء کے عشرے میں بھی ویت نام کے اختتام کے بعد امریکی فوجیوں کی ایک بڑی تعدا د وطن واپس لوٹی تھی۔ جن میں سے کئی ایک کو کئی دہائیاں گذر جانے کے باوجود یہ شکایت ہے کہ ان کا خیال نہیں رکھا جارہا۔ انہی میں سے ایک ہیں سابق خاتون فوجی برینڈا سمتھ جن کا کہناہے کہ سابق فوجیوں کی فلاح کے لیے اتنا کچھ نہیں کیا جاتا ، جتنا کہ کیا جانا چاہیے۔

برینڈا سمتھ امریکی بحریہ میں شامل ہونے والی ان چند اولین خواتین میں شامل ہیں۔ وہ 1963ء سے 1966ء تک باقاعدہ فوج اور بعد ازاں آٹھ سال تک ریزرو فوج کا حصہ رہیں۔

انیس سو تریسٹھ سے انیس سوچھیاسٹھ تک امریکی بحریہ اور اس کے بعد کے آٹھ سال تک امریکی ریزروفوج کا حصہ رہنے والی برینڈا براون سمتھ اپنے دور میں امریکی فوج میں شامل ہونے والی چند اولین امریکی خواتین میں سے تھیں ۔

لیکن آج وہ شراب نوشی اور ڈیپریشن کا شکار ہیں ۔ ان کا ریفریجیریٹر خالی پڑا ہے لیکن میز شوگر، بلڈ پریشر دیگر کئی امراض کی دوائیوں پر بھرا ہوا ہے۔ ان کی زندگی میں تنہائی ہے، ان کی باتیں بے ربط اور ادھوری ہیں اور انہیں اپنی بیماریوں اور انشورنس کمپنیوں کی سرد مہری سے شکائتیں ہیں، جو انہیں وہ دوائیں فراہم نہیں کرتیں جس کی انہیں ضرورت ہے۔ وہ اپنی زندگی ختم کرنے کی کوشش بھی کرچکی ہیں۔ ۔۔۔ یہ ہے ایک سابق امریکی فوجی کی کہانی۔

والنٹیئرز آف امریکہ نے اسے سرچھپانے کی جگہ فراہم کررکھی ہے اور ایک خاتون رضاکار دوائیاں کھلانے اورتھوڑی بہت مدد کے لیےان کے پاس جاتی ہے۔

برینڈا سمتھ کہتی ہیں کہ انہیں معلوم نہیں کہ عراق اور افغانستان سے لوٹنے والے امریکی فوجیوں کا مستقبل کیا ہوگا لیکن ان کا کہناہے کہ سابق فوجیوں کو معمول کی زندگی میں واپس لانے اور اپنے پاؤں پر پھر سے کھڑا کرنے میں حکومت اور معاشرے کو ان کی مدد کرنی چاہیے۔

XS
SM
MD
LG