رسائی کے لنکس

مسلم یونیورسٹی علیگڑھ میں تشدد کے معاملے میں دو افراد گرفتار


پولیس نے دائیں بازو کی ہندو انتہاپسند تنظیموں کے دو کارکنوں کو مسلم یونیورسٹی علیگڑھ میں تشدد کے سلسلے میں گرفتار کر لیا ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر قابل اعتراض مواد پوسٹ کیا تھا۔ اس وقت علیگڑھ میں انٹرنیٹ خدمات معطل ہیں۔

علیگڑھ کے ایس ایس پی اجے کمار ساہنی کے مطابق ان کے نام امت گوسوامی اور یوگیس وارشنے ہیں اور ان کا تعلق ہندو جاگرن منچ سے ہے۔

ہندو تنظیموں کے کارکنوں نے یونیورسٹی کے طلبا یونین ہال میں بانی پاکستان محمد علی جناح کی تصویر پر جو کہ 1938 سے لگی ہوئی ہے، اعتراض کیا تھا اور دو مئی کو کیمپس میں گھسنے کی کوشش کی تھی۔

بعد ازاں طلبہ نے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے سول لائنز تھانے تک مارچ کیا تھا جس پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا جس میں دو درجن سے زائد طلبہ زخمی ہوئے تھے۔

طلبا گزشتہ پانچ دنوں سے باب سرسید پر دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ کیمپس میں گھسنے والوں اور ان پر لاٹھی چارج کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

دریں اثنا محمد علی جناح کی تصویر کے سلسلے میں پورے ملک میں بحث جاری ہے۔ یونیورسٹی کے ایک سابق طالب علم و سابق استاد اور NALSAR یونیورسٹی حیدرآباد کے وائس چانسلر پروفیسر فیضان مصطفیٰ نے اس تنازعہ کے لیے ہندو انتہا پسند تنظیموں کو ذمے دار ٹھہرایا ہے۔

انھوں نے کہا کہ میں نے اتنے دنوں تک وہاں تعلیم حاصل کی اور پھر اتنے دنوں تک وہاں پڑھایا مگر میں نے جناح کی تصویر نہیں دیکھی۔ مگر ہندو تنظیموں نے آج پورے ملک کے اخباروں اور نیوز چینلوں پر اسے چھپوا دیا۔ انھوں نے اشاروں میں کہا کہ شاید اس قسم کے تنازعات سے بعض سیاسی جماعتوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ طلبا یونین نے بہت سی شخصیات کو لائف ممبرشپ دی ہے اور انھی میں محمد علی جناح اور وشو ہندو پریشد کے بانیوں میں سے ایک ڈاکٹر کرن سنگھ بھی شامل ہیں۔

اتوار کی شام کو مقامی وارشنے ڈگری کالج کے طلبا نے جناح کی تصویر کے خلاف مظاہرہ کرنے کی کوشش کی جسے پولیس نے ناکام بنا دیا۔ اس کے بعد یونیورسٹی کیمپس میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG