رسائی کے لنکس

قسط نمبر 2 ۔۔۔ اسرائیلی حکام پاسپورٹ پر مہر ثبت کرنے کی بجائے ایک علیحدہ کاغذ پر داخلے کی اجازت یا ’انٹری پرمٹ‘ دیتے ہیں۔ مگر یہ انٹری پرمٹ سوالات کے ایک لامتناہی سلسلے کے کڑے مرحلے سے گزر کر ہی ہاتھ میں تھمایا جاتا ہے۔

گذشتہ سے پیوستہ۔۔۔

اسرائیل کے پہلے وزیر ِاعظم ڈیوڈ بن گیرین کی نسبت پر قائم کیے گئے اس ائیرپورٹ کو دیکھ کر پہلا تاثر ہیکلِ سلیمانی کی طرز پر بنائے گئے کسی قلعے کا ہوتا ہے۔ یہ ہوائی اڈہ رقبے کے لحاظ سے دنیا کے دیگر بین الاقوامی ہوائی اڈوں سے چھوٹا ہے۔

تقریبا سات آٹھ منٹ کے بعد ہم پاسپورٹ چیکنگ کاؤنٹر پر کھڑے تھے جہاں بیک وقت تین پروازوں کے مسافروں کے کاغذات کی پڑتال کی جا رہی تھی۔۔۔ کوئی دس منٹ بعد میری باری آئی، ’پاسپورٹ پلیز‘ امیگریشن کاؤنٹر پر بیٹھی نوجوان خاتون میرا پاسپورٹ سکین کرنے کے بعد کی بورڈ پر کچھ ٹائپ کرتی رہی۔ تھوڑی دیر بعد سر اٹھایا اور ایک بھرپور نظر ڈالتے ہوئی بولی، ’تو آپ کی پیدائش پاکستان کی ہے؟‘۔ سمجھ نہ آیا یہ فرد ِجرم تھی یا کہ سوال؟ جتنی دیر میں سمجھ پاتی، اسرائیلی خاتون پاسپورٹ ہاتھ میں تھما کر سامنے کونے میں بنے ’ویٹنگ روم‘ میں بیٹھنے کا اشارہ کر چکی تھی۔

انتظار گاہ میں دس پندرہ افراد موجود تھے، زیادہ تر کا تعلق یورپی ممالک سے تھا۔ سبھی کے چہروں پر اکتاہٹ واضح تھی۔ دو تین حضرات اپنی باری کے انتظار میں کرسی پر بیٹھے بیٹھے اونگھ چکے تھے۔ ائیر پورٹ پر وائی فائی کی سہولت موجود تھی، عبدالقادر سے رابطہ کیا اور اسے موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا۔ عبدالقادر نے تسلی دیتے ہوئے بتایا کہ اسکا بیٹا شید ائیر پورٹ کے باہر منتظر کھڑا ہے۔

میں خالد حسینی کی کتاب And the Mountains Echoed میں دو ننھے منے بہن بھائی ’پری‘ اور ’عبداللہ‘ کی محبت بھری کہانی میں محو ہو چکی تھی جب تقریبا ایک گھنٹے بعد میرا نام پکارا گیا۔ سامنے ہی دائیں ہاتھ پر بنے ایک چھوٹے سے کمرے میں ایک اسرائیلی خاتون کسٹمز اہلکار مکمل میک اپ اور لمبی گھنگھریالی زلفیں کھولے ایک چھوٹی اور سادہ سی میز پر بیٹھی تھی، جس کے چہرے پر اگر مسکراہٹ مفقود تھی تو کرختگی کے آثار بھی نہ تھے۔ دل کو کچھ ڈھارس ہوئی۔ خاتون نے سوالات کا سلسلہ شروع کیا:

امریکی پاسپورٹ کب ملا؟ امریکہ میں رہائش کب، کیوں اور کس سلسلے میں اختیار کی؟
والد اور دادا کا کیا نام ہے؟
خاندان کہاں رہتا ہے؟ پاکستان میں کس شہر سے تعلق ہے وغیرہ وغیرہ

خاتون افسر میرے جواب ساتھ ساتھ کمپیوٹر میں درج کرتی جا رہی تھی۔ اس نے سادہ کاغذ پر مکمل نام، موبائل نمبر اور ای میل ایڈریس لکھنے کی تاکید کرتے ہوئے امریکی اور پاکستانی پاسپورٹ طلب کیا (گو کہ میرے پاکستانی پاسپورٹ کی میعاد ختم ہو چکی تھی، مگر میں نے احتیاطاً ساتھ رکھ لیا تھا)۔ پانچ سے سات منٹ کے اس انٹرویو کے بعد خاتون کسٹمز اہلکار نے ایک بار پھر ویٹنگ روم کا راستہ دکھایا ابھی عشق کے امتحاں اور بھی تھے !

انتظار گاہ میں ساتھ بیٹھی فرانسیسی عیسائی خاتون ریٹا سے گپ شپ لگنے لگی جو چار گھنٹے سے اپنے پاسپورٹ کے انتظار میں تھی۔ تھوڑی ہی دیر میں ایک اسرائیلی سیکورٹی اہلکار ایک بڑا سا پلاسٹک کا تھیلا لے کر انتظار گاہ میں داخل ہوا اور ہمیں ٹماٹر اور پنیر کے سینڈوچ کھانے کی پیشکش کی۔ غالباً ہماری حالت پر ترس آگیا تھا۔مگر میری دلچسپی سینڈوچ سے زیادہ اسرائیل داخلے کی اجازت پر تھی جہاں ہنوز دلی دور است والا معاملہ تھا۔ انتظار کی سولی سے فرار کے لیے میں نے ایک مرتبہ پھر پری اور عبداللہ کی انگلی تھامی اور ناول میں غرق ہوگئی۔

مزید ایک گھنٹہ بیت چکا تھا جب کسی نے بآواز ِبلند ’انور‘ پکارا۔ دستی بیگ سنبھالتے ہوئے باہر نکلی تو ایک مرتبہ پھر نام کی تصدیق کی گئی۔ اسرائیلی اہلکار کے ہاتھ میں میرا پاکستانی اور امریکی پاسپورٹ موجود تھا، ساتھ ہی ایک چھوٹا سا کاغذ بھی تھا۔ اسرائیلی حکام پاسپورٹ پر مہر ثبت کرنے کی بجائے ایک علیحدہ کاغذ پر داخلے کی اجازت یا ’انٹری پرمٹ‘ دیتے ہیں۔ مگر تین بٹا دو انچ کے چھوٹے سے کاغذ پر شائع شدہ یہ انٹری پرمٹ سوالات کے ایک لامتناہی سلسلے کے کڑے مرحلے سے گزر کر ہی ہاتھ میں تھمایا جاتا ہے، منیر نیازی یاد آگئے۔

ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

سیکورٹی اہلکار نے میرے صبر کا امتحان لیتے ہوئے ایک مرتبہ پھر سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔ امریکہ میں کہاں کام کرتی ہیں؟ یروشلم کیوں دیکھنا ہے اور آنے کا مقصد کیا ہے؟ کیا آپ مسجد ِاقصیٰ جائیں گی اور اگر جائیں گی تو کیا نماز ِجمعہ وہاں ادا کرنے کا ارادہ ہے؟۔ تمام جواب ایمانداری سے دینے سے بعد بالآخر پاسپورٹ اور اسرائیل میں داخلے کا اجازت نامہ تھمایا گیا اور ’اسرائیل میں خوش آمدید‘ کہہ کر کسٹمز اہلکار نے باہر کی جانب اشارہ کیا جہاں سامان بیلٹ نمبر چھ کے ایک کونے میں ہمارا اٹیچی کیس تنہا پڑا تین گھنٹوں سے ہماری راہ تک رہا تھا۔

ائیر پورٹ کے طویل، اکتا دینے اور اسرائیلی اہلکاروں کے سپاٹ، اورسنجیدہ روئیے کی تلافی ائیر پورٹ سے باہر نکلتے ہی عبدالقادر کے بیٹے شید کی گاڑی اور اس کے چہرے پر سجی مسکراہٹ دیکھ کر ہو گئی۔ شید سے انتظار کی زحمت پر معذرت کی تو کہنے لگا، ’مجھے اندازہ تھا کہ آپ کو ائیر پورٹ پر دیر لگ جائے گی۔ اکثر مسلمانوں کے ساتھ یہی ہوتا ہے اور آپ کا تعلق تو پاکستان سے ہے‘۔ گویا یہ سونے پر سہاگہ والا معاملہ تھا۔ ائیر پورٹ سے یروشلم کا فاصلہ تقریبا 55 کلومیٹر ہے۔ تل ابیب کی سڑکیں جدید، ہموار اور تین یا چار رویہ تھیں۔ راستے میں ہر تھوڑے فاصلے کے بعد سڑک کنارے بڑے بڑے سبز رنگ کے بورڈ نصب تھے جس پر متعلقہ شہروں کے نام اور فاصلہ عربی، عبرانی اور انگریزی زبان میں درج تھے۔ یروشلم کی حدود کے ساتھ ہی ماحول یک دم بدل سا گیا۔ سیدھی سیدھی سڑک اب اونچے نیچے موڑ لے رہی تھی کہ یروشلم پہاڑوں پر آباد ہے۔۔۔ ہوا ٹھنڈی ہو چلی تھی اور کسی مہربان میزبان کی طرح بالوں سے اٹھکیلیاں کرتے ہوئے جیسے ہمارا خیر مقدم کر رہی تھی۔ پہاڑوں کے دامن میں بنے گھروں میں کہیں کہیں جلتی بجھتی بتیوں سے مجھے مکہ ِمکرمہ کی یاد آگئی۔ وہی پہاڑوں کے دامن میں بنے چھوٹے بڑے گھر، اونچی نیچی سڑکیں اور قدیم تاریخ و تہذیب کا مرکز۔

یروشلم جدید اور قدیم ثقافت کا عجب اور خوبصورت امتزاج ہے۔ جہاں ایک طرف پرانی اور کہیں کہیں بو سیدہ ہوتی عمارتیں موجود ہیں وہیں اس شہر کے در و دیوار میں دور ِجدید کی جھلک بھی جا بجا نظر آتی ہے۔ سڑکوں پر قدامت پسند یہودیوں کی طرح رکھنے والے لوگ بڑی تعداد میں دکھائی دئیے جن کی پہچان ان کے چہرے پر لٹکتی دو بڑی لٹوں سے ہوتی ہے جو کانوں سے ہوتی ہوئی، چہرے پر بل کھاتی ہوئی ان کے سینے تک جا پہنچتی ہیں۔۔۔ یہودی، جن سے میرا واسطہ آج سے پہلے محض فلموں یا پھر نیویارک میں برونکس اور بروکلین (نیو یارک میں یہودی اکثریتی علاقے) کی گلیوں میں دیکھنے کی حد تک ہی محدود رہا تھا، مگر اب میں اس سرزمین پر موجود تھی جس پر یہودی اور مسلمان دونوں اپنا حق جماتے ہیں اور جس کی تاریخ یہودیت اور اسلام کے نظریاتی اور مستقل ٹکراؤ سے عبارت رہی ہے۔

گاڑی یروشلم کی گلیوں میں بالکل ویسے ہی فراٹے بھر رہی تھی جیسا کہ شید کی زبان۔ وہ مختلف علاقوں کے بارے میں تفصیلا ت بتا رہا تھا۔ کونسا علاقہ یہودیوں کا ہے اور کس علاقے میں مسلمان آباد ہیں۔ کہاں مسلمانوں کا داخلہ منع ہے اور کہاں یہودی داخل نہیں ہوتے۔ کہاں جدید شہر کی امیر آبادیاں قائم کی گئی ہیں اور ان امیر آبادیوں کی اوٹ میں کون لوگ کچے مکانات اور جھونپڑوں میں تنگ دستی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔’اور یہ وہ جگہ ہے جہاں جدید یروشلم غیر محسوس طریقے سے قدیم یروشلم کی تاریخی گلیوں میں ضم ہو جاتا ہے‘۔ شید نے اونچی فصیلوں کے اندر آباد قدیم یروشلم کے دروازے ’باب العامود‘ کے سامنے گاڑی روکتے ہوئے کہا۔

رات کے گیارہ بج چکے تھے، سڑکیں سنسان پڑی تھیں اور بھوک سے حالت غیر ہو چلی تھی۔ سامنے ہی ایک بوسیدہ سے ہوٹل نما دکان سے مزیدار شاورما خرید کر بھوک مٹائی۔

اسی دوران عبدالقادر کا فون بھی آگیا جو جاننا چاہتا تھا کہ اگلے روز کیا کرنا ہے۔ میرا ارادہ تھا کہ جتنے بھی دن اسرائیل میں ہوں فجر مسجد ِاقصیٰ میں ادا کی جائے۔ عبدالقادر یہ سن کر خوش ہوا اور کہنے لگا کہ وہ صبح ساڑھے چار بجے ہوٹل پہنچ جائے گا۔

جاری ہے۔۔۔

آپ کی رائے

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG