رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کی افغان حکمت عملی کے نتائج 'معمولی' ہیں: رپورٹ


فائل فوٹو

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی طرف سے افغانستان کے لیے حکمت عملی کی تشکیل نو کے طالبان کی عسکریت پسندی کے خلاف کم ہی نتائج برآمد ہوئے ہیں اور امریکی مداخلت کے 17 سال بعد یہ ملک ایک "خطرناک اور غیر مستحکم" صورتحال سے دوچار ہے۔

یہ بات امریکہ کے ایک حکومتی نگران تنظیم کی طرف سے پیر کو بتائی گئی جو کہ امریکی فوج کے ان دعووں سے مطابقت نہیں رکھتا جن میں کہا گیا تھا کہ امریکی معاونت سے افغان فورسز نے "صورتحال کو تبدیل" کر دیا اور طالبان کے خلاف کارروائیوں کو مہمیز کیا اور عسکریت پسند اب مضطرب اور ٹوٹ رہے ہیں۔

پینٹاگان کے انسپکٹرز جنرل، محکمہ خارجہ اور امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی کے نمائندوں پر مشتمل گروپ نے کانگرس میں پیر کو یہ رپورٹ پیش کی جس میں ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے افغانستان میں اس برس مزید امریکی فوجیوں کو لڑائی والے علاقوں میں افغان فورسز کے ساتھ بھیجے جانے کے فیصلے پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا۔

گروپ کے بقول اس سے شہری ہلاکتوں، فورسز کے اندر سے حملوں، امریکی جانی نقصان اور خطرہ اور بڑھ جائے گا۔

فی الوقت تقریباً 15000 امریکی فوجی افغانستان میں موجود ہیں جو کہ براہ راست لڑاکا مشن میں مصروف نہیں بلکہ یہ افغان فورسز کو معاونت فراہم کر رہے ہیں۔

طالبان کی طرف سے کیے جانے والے حالیہ حملوں بشمول گزشتہ ہفتے ایرانی سرحد کے قریب واقع مغربی صوبے فرح میں ہوئے مہلک حملے کے تناظر میں پینٹاگان کی طرف سے جاری کی گئی اس رپورٹ میں کہا گیا کہ افغان فورسز کی جانب سے پیش رفت کے کچھ زیادہ پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔

پینٹاگان کے ںائب انسپکٹر جنرل گلن فائن نے رپورٹ کے ابتدائیہ میں لکھا کہ "طالبان کی طرف سے علاقوں پر قبضہ جاری ہے اور انھوں نے کابل اور ملک کے مختلف حصوں میں تباہ کن دہشت گرد حملے کیے۔"

پینٹاگان کے ترجمان کرنل روب میننگ نے رپورٹ کے جائزے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکام کا خیال ہے کہ افغانستان میں پیش رفت کے ساتھ ساتھ ایسی بدامنی کی صورتحال ساتھ ساتھ ہی چل رہی ہے۔

ان کے بقول افغان مسلح افواج اہم کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں اور اس کے لیے انھوں نے حالیہ دنوں میں صوبہ فرح میں طالبان کے خلاف افغان فضائیہ کی کارروائیوں کی مثال دی۔

میننگ کا مزید کہنا تھا کہ امریکی فوجی مشاورتی یونٹس فرح پہنچے اور وہاں مکمل طور پر اب افغان حکومت کی عملداری قائم ہے۔

انسپکٹر جنرل کی رپورٹ میں بھی اتفاق کیا گیا کہ افغان سکیورٹی فورسز کی استداد کار بہتر ہو رہی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ وہ آبادیوں کے تحفظ کے سلسلے میں معمولی پیش رفت ہی کر سکی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG