رسائی کے لنکس

logo-print

جنوبی ایشیائی کاروباری شخصیات صدارتی امیدواروں کے معاشی منصوبوں کو کیسے دیکھتی ہیں؟


صدر ٹرمپ، جو بائیڈن، نائب صدر مائیک پنس اور ںائب صدارت کی ڈیموکریٹک امیدوار کاملا ہیرس، فائل فوٹو

الیکشن سے تقریباً ایک ہفتہ قبل جب کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے مدمقابل جو بائیڈن امریکی ووٹروں کو قائل کرنے میں مصروف ہیں، جنوبی ایشیا سے تعقلق رکھنے والے کاروباری مالکان کہتے ہیں کہ کرونا بحران کے اس دور میں معاشی بحالی کی پالیسیاں ان کے لیے اہم ترین ترجیحات میں شامل ہیں۔

لیکن دنیا کی سب سے بڑی معیشت کو مضبوط رکھنے کے لیے بہت سے عوامل کارفرما ہیں جن میں موجودہ حالات میں چھوٹے کاروباروں کی بحالی، ملازمتوں کے مواقع، سٹیمولس پیکج، اور ٹیکسوں کی شرح کو فیصلہ کن سمجھا جاتا ہے۔

نیویارک میں ریئل اسٹیٹ سے وابستہ کاروباری شخصیت اور صدر ٹرمپ کے حامی عمران اگرا کہتے ہیں کہ انہوں نے 2020 کے الیکشن کے دونوں امیدواروں کو سنا ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ تین نومبر کو ہونے والے انتخابات سے پہلے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ امریکہ کا اگلا صدر معیشت کو مضبوط اور قومی سلامتی کا تحفظ کیسے کرے گا۔

انہوں نے کہا:

"میں سمجھتا ہوں کہ صدر ٹرمپ نے کرونا بحران سے پہلے اور بعد بھی ایک بہتر پالیسی اپنائی۔ ان کے دور میں بے روزگاری کی شرح بہت کم رہی اور ان کے سٹیمولس پیکیج سے عوام کے ہاتھ میں پیسہ آیا جو معیشت کو چلانے میں بہت اہم ثابت ہوا۔ اور اب یورپی ممالک کے مقابلے میں امریکی معیشت کہیں بہتر ہے"۔

اس کے علاوہ پاکستانی امریکی عمران اگرا کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ نے پے رول ٹیکسز میں چھوٹ دی جس سے لوگوں کو فائدہ ہوا۔

"میں سمجھتا ہوں کہ امریکی معشت کو اب کرونا بحران سے نکالنے کے لیے ہمیں صدر ٹرمپ کی ضرورت ہے اور انہیں ہی منتخب ہونا چاہیے۔"

کرونا وائرس کی وجہ سے امریکہ بھر میں بہت سے کاروبار بند اور کارکن بے روزگار ہوئے ہیں۔
کرونا وائرس کی وجہ سے امریکہ بھر میں بہت سے کاروبار بند اور کارکن بے روزگار ہوئے ہیں۔

دوسری طرف فرینک اسلام ایک انڈین امریکی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے کاروبار کے مالک ہیں اور ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار بائیڈن کی حمایت کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ نائب صدر کی حیثیت سے بائیڈن نے اوباما دور میں 2008 کی عالمی کساد بازاری سے امریکہ کو نکالنے میں اہم کردار ادا کیا اور وہ جانتے ہیں کہ معیشت کی بحالی کے لیے کیا اقدامات کرنے ضروری ہیں۔

"میں سمجھتا ہوں کہ دونوں امیدواروں میں ایک اہم فرق ہے۔ وہ یہ کہ صدر ٹرمپ کی تمام تر توجہ سٹاک مارکیٹ پر رہی ہے، جب کہ بایئڈن کے نزدیک چھوٹے درجے کے کاروبار معیشت کا اہم ترین جزو ہیں کیونکہ یہ ہی امریکی اقتصادی ترقی کے لیے انجن کا کردار ادا کرتے ہیں۔"

لیکن عمران اگرا اس سے اختلاف کر تے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ گرمیوں میں دیے گئے پہلے سٹیمولس پیکج کے ساتھ پے چیک پروٹیکشن پروگرام کے ذریعے چھوٹے درجے کے کاروباروں کی بھرپور مدد کی گئی تھی۔

ری پبلیکن اور ڈیموکریٹک پارٹیوں کے درمیان ٹیکس کی شرح پر بھی مخالف نظریات پائے جاتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنے وائٹ ہاؤس کے قیام کے برسوں میں اس بات پر زور دیا ہے کہ کاروباری کمپنیوں اور کارپوریشنوں کو اگر ٹیکس کی چھوٹ دی جائے تو اس کا بہت مثبت اثر ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے ٹیکسوں کی شرح میں کمی بھی کی۔

صدر ٹرمپ اکثر وال اسٹریٹ کی مضبوط کارکردگی اور افریقی امریکی اور ہسپانوی برادریوں میں بے روزگاری کی کم ترین سطح کو اپنی معاشی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔

عدنان بخاری مالی امور کے ماہر ہیں اور نیشنل امیگریشن لا سینٹر میں رہنما کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پاکستانی نژاد امریکی بخاری کہتے ہیں کہ امریکہ میں سٹاک ایکسچینج کی بہتری ہی ترقی کا پیمانہ نہیں ہے۔

وہ کہتے ہیں:

"میں سمجھتا ہوں کہ صدر ٹرمپ کی توجہ ان مڈل کلاس امریکیوں پر نہیں رہی جنہیں بہت سے مسائل نے آ گھیرا ہے۔ اگرچہ کرونا وائرس کے دوران صدر ٹرمپ کے پے چیک پروٹیکشن پروگرام سے عارضی طور پر چھوٹے کاروباروں کو کچھ ریلیف ملا، لیکن یہ کوئی مستقل حل نہیں ہے۔"

صدراتی مباحثے میں کاروبار، روزگار اور معیشت کی بحالی اور ترقی ایک اہم موضوع تھا۔
صدراتی مباحثے میں کاروبار، روزگار اور معیشت کی بحالی اور ترقی ایک اہم موضوع تھا۔

وہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ امریکہ میں مساوی ترقی اور نسلی امتیاز کے مسائل کا حل بھی یکساں اقتصادی ترقی میں ہے۔

"میں سمجھتا ہوں کے بایئڈن مڈل کلاس کے مسائل پر زیادہ متوجہ ہوں گے۔ وہ طالب علموں پر قرضوں کا بوجھ بھی کم کرنا چاہتے ہیں۔"

امریکہ کے طول و عرض میں پھیلی باقی برادریوں کی طرح جنوبی ایشیائی کمیونٹی میں بھی ایسے بہت سے لوگ ہیں جو پارٹی وابستگی کے باوجود آزاد رائے رکھتے ہیں۔

ریاست ورجینیا میں مقیم نعیم ملک بہت عرصے سے ری پبلیکن پارٹی کے پیروکار رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں صدر ٹرمپ کی کئی پالیسیوں سے اختلاف ہے، لیکن ایک کاروباری مالک کے طور پر وہ ری پبلیکن پارٹی کی آزاد مارکیٹ، ٹیکسوں میں کمی اور کاروبار کے حق میں پالیسیوں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کے بقول ان سے دیرپا ترقی ممکن ہو سکتی ہے۔

سعادت رانا گولڈن ریئلٹی کے بانی ہیں اور ڈیموکریٹک پارٹی کے حامی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ وہ معاشی ترقی کے حوالے سے بہت سے اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں، مگر اس بات کا اعتراف بھی کرتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کی معیشت کے حوالے سے کارکردگی اچھی رہی ہے اور ابھی تک کرونا کے عالمی بحران میں انہوں نے امریکہ کو کساد بازاری سے بچاہا ہوا ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ سابق صدر اوباما کے اقدامات کی بدولت صدر ٹرمپ کو معیشت ایک صحت مند حالت میں ملی تھی۔

لیکن فرینک اسلام کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ نے کووڈ نائینٹین کے باعث بے روزگار ہونے والے افراد کے لیے مؤثر حکمت عملی نہیں اپنائی۔

ٓاسلام ، جن کا شمار امریکی خواب حاصل کرنے والی کاروباری شخصیات میں ہوتا ہے ،کہتے ہیں کہ ابھی تک گیارہ ریاستوں میں کرونا بحران سے بے روزگار ہونے والے افراد کی بڑی تعداد کو کام کے مواقع میسر نہیں ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ بایئڈن جیتنے کی صورت میں ٹھوس اقدامات کے ذریعے امریکی معیشت کو مضبوط کریں گے۔

امریکہ میں سٹوڈنٹس لون، مکانوں کی مارگیج کے بعد سب سے بڑا قرضہ ہے۔
امریکہ میں سٹوڈنٹس لون، مکانوں کی مارگیج کے بعد سب سے بڑا قرضہ ہے۔

دوسری طرف عمران اگرا کہتے ہیں کہ امریکہ کو بلا شبہ کرونا کے سبب بہت سے مسائل کا سامنا ہے، لیکن اس کی اقتصادی ترقی کے ستون مضبوط ہیں اور اس سلسلے میں چھوٹے کاروباروں کی امداد اور دوسرے سٹیمولس پیکج کا فوری مہیا کیا جانا مفید اقدامات ہوں گے اور وہ پر امید ہیں کہ صدرٹرمپ ایسا ہی کریں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG