رسائی کے لنکس

logo-print

عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ نے خود کو قرنطینہ کر لیا


فائل فوٹو

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہینم گیبراسس نے کہا ہے کہ اُن سے ملنے والے ایک شخص کے کرونا مثبت آنے کی وجہ سے وہ خود کو قرنطینہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اُن میں کرونا کی علامات ظاہر نہیں ہوئی ہیں۔

اتوار کو اپنے ایک ٹوئٹ میں ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کہا کہ ’’میرا رابطہ ایک ایسے شخص سے ہوا تھا جس کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔ میں ٹھیک ہوں اور مجھ میں کوئی علامات نہیں ہیں مگر میں عالمی ادارہ صحت کے پروٹوکولز کے تحت آنے والے دنوں کے لیے خود کو قرنطینہ کر رہا ہوں، اور گھر سے کام کروں گا۔‘‘

جب سے عالمی وبا شروع ہوئی ہے اس وقت سے ٹیڈروس اس کے خلاف عالمی ادارۂ صحت کی کوششوں کی سربراہی کر رہے ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کا صدر مقام جنیوا ہے جہاں تمام بار، ریستوران اور غیر ضروری دکانیں بند کر دی گئی ہیں۔

پانچ لاکھ کے شہر میں روزانہ ایک ہزار سے زائد افراد میں کرونا مثبت آ رہا ہے جب کہ اسپتال کرونا کے مریضوں سے بھر گئے ہیں۔

ٹیڈروس نے اپنے بیان میں اس بات ہر زور دیا کہ ’’یہ بات انتہائی اہم ہے کہ ہم سب صحت کی گائڈ لائنز پر عمل کریں۔ ہم نے اگر وائرس کو ختم کرنا ہے، اس کے پھیلنے کی لڑی کو توڑنا ہے تو پھر یہی اس کا واحد طریقہ ہے۔‘‘

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ کی جانب سے یہ بیانات ایسے موقع پر سامنے آئے ہیں جب دنیا بھر میں کرونا وائرس کی نئی لہر کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ بہت سے یورپی ملکوں میں دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کیا جا رہا ہے۔

یورپ میں کرونا وبا کی شروعات سے لے کر اب تک 2 لاکھ 69 ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں اور گزشتہ پانچ ہفتوں کے دوران کیسز کی تعداد میں دو گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG