رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا ویکسین کی تقسیم میں غریب ملکوں کا خیال رکھا جائے، عالمی ادارۂ صحت


عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈھانم، فائل فوٹو

عالمی ادارہ برائے صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈھانم نے کرونا ویکسین کی غریب ملکوں کو غیر مساوی تقسیم کی جانب اشارہ کرتےہوئے کہا کہ دنیا ایک بڑی اخلاقی غلطی کی مرتکب ہو رہی ہے۔

عالمی ادارہ برائے صحت کے جنیوا میں قائم ایگزیکٹو بورڈ کی میٹنگ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “یہ درست نہیں ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کے صحت مند اور نوجوان افراد کو ترقی پذیر ممالک کے طبی عملے اور عمر رسیدہ افراد سے پہلے ویکسین لگائی جائے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ اب تک کرونا ویکسین کی چار کروڑ کے قریب خوراکیں ترقی یافتہ ممالک میں لگائی جا چکی ہیں مگر ترقی پذیر ممالک میں ان کی تعداد محض 25 ہزار ہے۔

ان کے بقول اگر امیر ممالک غریب ممالک سے کرونا ویکسین شئیر نہیں کرتے تو ان ممالک کو اس کی قیمت لوگوں کی جان اور مال سے دینی پڑے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ وبا کے دوران پہلے مجھے ویکسین دینے کا رویہ عالمی وبا کو طویل کر دے گا۔

میکسیکو نے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے اس مطالبے پر عمل کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی ویکسین کی خریداری کو محدود کر رہا ہے تاکہ اس دوران غریب ممالک کو زیادہ سے زیادہ ویکسین فراہم کی جا سکے۔

میکسیکو کو منگل کے روز فائزر بائیو این ٹیک کی بنائی گئی ویکسین کی پہلی کھیپ موصول ہو گئی ہے۔

صدر آندرے مینیول لوپیز کا کہنا ہے کہ ملک منگل کے روز ملنے والی فائز کی ویکسین کی دو لاکھ خوراکوں کے بعد عارضی طور پر اس کا حصول معطل کر رہا ہے۔

میکسیکن رہنما کا کہنا تھا کہ اس عارضی معطلی سے ان کے کرونا وائرس کے خلاف اقدامات میں تعطل نہیں آئے گا۔ ان کا ملک چین سے کین سائنو ویکسین اور روس سے سپتنک ویکسین لینے کے لیے بات چیت کر رہا ہے۔

اگلے مہنے اس تعطلی کے ختم ہونے کے بعد میکسیکو فائزر سے 50 لاکھ ویکسین کی خوراکیں حاصل کرے گا۔

ملک میں اب تک کرونا کے ساڑھے 16 لاکھ کے لگ بھگ کیس سامنے آ چکے ہیں اور وبا کی وجہ سے اب تک 1 لاکھ 41 ہزار افرادہلاک ہو چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG