رسائی کے لنکس

عالمی ادارہ صحت کی 10 کروڑ افراد سے سگریٹ چھڑوانے کی مہم


فائل فوٹو
فائل فوٹو

صحت کی عالمی تنظیم (ڈبلیو ایچ او ) نے دنیا بھر کی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ اپنے شہریوں کے لیے اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمباکو نوشی چھوڑنے کے لیے ان کے پاس تمام ذرائع اور وسائل موجود ہوں۔

ڈبلیو ایچ او سال بھر پر محیط ایک مہم کا آغاز کر رہی ہے جس کا مقصد 10 کروڑ افراد کو تمباکو نوشی چھوڑنے میں مدد کرنا ہے۔

"کمٹ ٹو قوِٹ" یعنی چھوڑنےکا وعدہ کریں نامی یہ مہم امریکہ سمیت دنیا کے 22 ممالک پر توجہ مرکوز رکھے گی۔ منگل کے روز اس کا باقاعدہ آغاز ہوا تھا، اور اس سلسلے میں ورلڈ نو ٹوبیکو ڈے مئی سن دو ہزار اکیس کو منایا جائے گا۔

ڈبلیو ایچ او کے ایک بیان کے مطابق اس مہم کا مقصد تمباکو نوشی چھوڑنے والے افراد کیلئےایک صحت مند ماحول پیدا کرنا ہو گا۔

بیان کے مطابق، ڈبلیو ایچ او کو امید ہے کہ وہ ان افراد کے گروپ بنا کر فائدہ اٹھائے گی جو کرونا وائرس سے پھیلنے والی عالمی وبا کے بعد تمباکو نوشی چھوڑنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔

اس سال کے آغاز پر ڈبلیو ایچ او نے متنبہ کیا تھا کہ تمباکو نوشی کرنے والے افراد کے عالمی وبا سے ہلاک ہونے کے زیادہ امکانات ہیں۔

تقریباً سات سو اسی ملین تمباکو نوشوں کا کہنا ہے کہ وہ اس عادت کو چھوڑنا چاہتے ہیں، لیکن صرف تیس فیصد ایسے ہیں جن کے پاس اس کو چھوڑنے کے ذرائع اور وسائل تک رسائی ہے۔

ڈائیریکٹر آف ہیلتھ پروموشن ڈاکٹر روڈیگر کریش کا کہنا تھا کہ صحت سے متعلق عالمی سطح پر حکام کو ان کروڑوں لوگوں میں تمباکو نوشی ترک کرنے کی خواہش کا ضرور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ ایسی خدمات میں سرمایا کاری کریں تا کہ ایسے افراد تمباکو نوشی ترک کرنے میں کامیاب ہو سکیں، اور ان افراد کو تمباکو کی صنعت اور اس کے مفادات سے دور کردینا چاہئیے۔

ڈبلیو ایچ او کے ڈائیریکٹر جینرل ڈاکٹر ٹیدروس ادھانوم کا کہنا ہے کہ تمباکو نوشی سے ہر سال اسی لاکھ افراد ہلاک ہو جاتے ہیں لیکن اس عادت سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے سگرٹ نوشوں کو مزید تحریک کی ضرورت ہے، اور عالمی وبا اس کے لئے ایک درست ترغیب اور محرک فراہم کرتی ہے۔

XS
SM
MD
LG