رسائی کے لنکس

logo-print

ایبولا کا پھیلاؤ تیز، سدِ باب کی کوششیں سست ہیں: عالمی ادارہ


ایبولا وائرس مغربی افریقی ملکوں میں اب تک 730 افراد کی جان لے چکا ہے جن میں متاثرہ افراد کا علاج معالجہ کرنے والے طبی عملے کے 60 اہلکار بھی شامل ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ ایبولا سے متاثرہ مغربی افریقی ممالک میں وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے جب کہ اس پر قابو پانے کی کوششیں نسبتاً سست ہیں۔

عالمی ادارے کی سربراہ ڈاکٹر مارگریٹ چین کے بقول اگر وائرس کا پھیلاؤ جاری رہا تو اس کے نتائج تباہ کن نکلیں گے اور نہ صرف بے تحاشا انسانی جانیں ضائع ہوں گی بلکہ دنیا کو سماجی اور معاشی نقصانات بھی برداشت کرنا پڑیں گے۔

ڈاکٹر مارگریٹ نے یہ بیان مغربی افریقی ملک گنی کے درالحکومت کوناکرے میں دیا ہے جہاں انہوں نے جمعے کو گنی، سیرا لیون، لائبیریا اور آئیوری کوسٹ کے صدور سے ملاقات کی۔

عالمی ادارۂ صحت اور ان چاروں مغربی افریقی ملکوں کے سربراہان 100 ملین ڈالر مالیت کے ایک منصوبے کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں جس کا مقصد ایبولا کے پھیلاؤ کو روکنا ہے جو اب تک 730 افراد کی جان لے چکا ہے۔

ڈاکٹر مارگریٹ چین کے مطابق مرنے والوں میں ایبولا سے متاثرہ افراد کا علاج معالجہ کرنے والے طبی عملے کے 60 اہلکار بھی شامل ہیں جب کہ وائرس پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف کئی بین الاقوامی رضاکار بھی اس کا نشانہ بنے ہیں۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عالمی ادارے کی سربراہ کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ کوناکرے میں ہونےو الی ملاقات کے دوران طے پانےوالا منصوبہ ایبولا پر قابو پانے کی بین الاقوامی کوششوں میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ وائرس کا نشانہ بننے والے افریقی ممالک میں سیکڑوں طبی ماہرین اور رضاکاروں کو تعینات کیا جارہا ہے جب کہ ادارے کا ایک اہم اجلاس بدھ کو منعقد ہورہا ہے جس میں وائرس کے دنیا پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایبولا مریض کے خون یا فضلے سے پھیلتا ہے اور وائرس سے متاثرہ شخص میں اس کی علامات ظاہر ہونے کی مدت دو سے 21 دن ہے۔

تاحال اس مرض کا علاج دریافت نہیں ہوسکا ہے اور بروقت طبی امداد نہ ملنے کی صورت میں وائرس سے متاثرہ شخص کے مرنے کا امکان 90 فی صد تک ہوسکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مرض کی ابتدائی علامات فلو سے ملتی جلتی ہیں جس کے شدید ہونے پر متاثرہ شخص کی آنکھوں، مسوڑھوں اور اندرونی اعضا سے خون کا اخراج شروع ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوجاتی ہے۔

وائرس سے سب سےز یادہ لائبیریا، سیرالیون اور گنی متاثر ہوئے ہیں جہاں ابتدائی طور پر وائرس سے نبٹنے کے لیے بروقت اقدامات نہ اٹھائے جانے کے باعث اس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا۔

وائرس سے ہونے والی اموات میں قابلِ ذکر اضافے کے بعد لائبیریا کی حکومت نے اسکولوں میں تعطیلات کا اعلان کردیا ہے، غیر ضروری سرکاری ملازمین کو دفاتر سے چھٹیاں دیدی ہیں اور پڑوسی ملکوں کے ساتھ سرحدیں بند کردی ہیں۔

سیرالیون کی حکومت نے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرکے ایبولا کے مریضوں کو فوج کی حفاظتی تحویل میں دے دیا ہے تاکہ انہیں دیگر افراد سے ملنے جلنے سے روکا جاسکے۔

XS
SM
MD
LG