رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان: امن عمل اور آئندہ صدارتی انتخاب


Ghani and Abdullah

افغانستان میں اگلا صدارتی انتخاب 20 اپریل، 2019 کو ہونا ہے۔ اور موجودہ صدر اشرف غنی پہلے ہی اس انتخاب میں دوسری بار اُمیدوار ہونے کا اعلان کر چکے ہیں۔

یہ انتخابات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب افغانستان کی تعمیرنو کیلئے اسپیشل انسپیکٹر جنرل کی 31 جولائی کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے کل 400 کے لگ بھگ اضلاع میں سے کم سے کم 56 مکمل طور پر طالبان کے کنٹرول میں ہیں۔

افغانستان کی جنگ امریکی تاریخ کی سب سے طویل مدت کی جنگ ہے اور اس پر نہ صرف اربوں کھربوں ڈالر صرف ہوئے بلکہ بے شمار جانیں بھی ضائع ہوئیں اور اب امریکہ بھر پور کوشش کر رہا ہے کہ افغانستان میں امن لانے کے لیے طالبان کے ساتھ جلد از جلد جامع مذاکرات کا آغاز کیا جا سکے۔

معروف تجزیہ کار اور افغان اُمور کے ماہر ڈاکٹر حسین یاسا نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے حوالے سے زیادہ پر اعتماد دکھائی نہیں دیتے۔ دوسری جانب طالبان کی طرف سے بھی ایسے واضح اشارے نہیں ملے کہ وہ سنجیدگی سے امن مذاکرات کے خواہاں ہیں۔ ڈاکٹر یاسا کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ نے امن مذاکرات کی تکمیل کیلئے زلمے خلیل زاد کو چھ مہینے کا وقت دیا تھا جس میں سے دو ماہ پہلے ہی گزر چکے ہیں۔ طالبان سمیت کسی بھی فریق کے طرف سے ایسے واضح اشارے نہیں مل رہے کہ افغانستان میں امن بحالی کیلئے امریکہ کی حکمت عملی کامیاب ہو رہی ہے۔

افغانستان کیلئے امریکہ کے خصوصی نمائیندے زلمے خلیل زاد۔ فائل فوٹو
افغانستان کیلئے امریکہ کے خصوصی نمائیندے زلمے خلیل زاد۔ فائل فوٹو

ڈاکٹر یاسا کہتے ہیں کہ طالبان کسی امن کوشش کا حصہ بننے کے بجائے پورے ملک میں اپنی حکومت قائم کرنے کے خواہاں ہیں۔

سوال یہ بھی ہے کہ علاقائی قوتیں امن اور افغانستان کے مستقبل میں کیا کردار حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ 9 نومبر کو روس نے ماسکو میں افغان امن کے لیے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا تھا جس میں پاکستان، چین اور بھارت کے نمائندوں نے بھی شرکت کی تھی۔ امریکہ اور افغانستان نے اس کانفرنس میں سرکاری طور پر شرکت نہیں کی تھی لیکن افغانستان کی 'ہائی پیس کونسل' کے ارکان مبصر کے طور پر اس میں شریک ہوئے۔

ڈاکٹر یاسا کہتے ہیں کہ افغانستان میں روایتی طور پر پاکستان اور امریکہ کے قریبی تعلقات کو اہمیت دی جاتی رہی ہے۔ لیکن کچھ عرصے میں ان دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں کافی حد بگاڑ پیدا ہوا ہے اور افغانستان میں دونوں کے مفادات مختلف ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاک امریکہ تعلقات میں کشیدگی کی ایک بڑی وجہ پاکستان چین راہداری کا منصوبہ ہے جسے امریکہ پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھتا اور اب یہ منصوبے اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ پاکستان کیلئے پیچھے ہٹنا ناممکن ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان اور روس میں بڑھتے ہوئے تعلقات اور پھر چین اور روس کے درمیان سٹریٹجک تعلقات بھی امریکی حلقوں میں پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھے جاتے۔ وہ کہتے ہیں کہ افغانستان کی سرحدیں چھ مختلف ملکوں سے ملتی ہیں اور اتفاق سے ان میں سے کسی بھی ملک کے ساتھ افغانستان کئے تعلقات کو بہترین نہیں کہا جاسکتا۔

افغانستان کے آئندہ صدارتی انتخاب کے انعقاد میں ابھی ساڑھے چاہ ماہ باقی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ کی طرف سے طالبان کے ساتھ قیام امن کیلئے کامیاب مذاکرات کی تکمیل کا خواب بر وقت پورا ہو پاتا ہے یا پھر یہ انتخاب اس کے بغیر ہی منعقد ہو گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG