رسائی کے لنکس

کیا روہنگیا بحران کبھی حل ہو گا؟


بنگلہ دیش میں محصور روہنگیا پناہ گزیں اپنے مصائب کا حال بتا رہے ہیں۔ فائل فوٹو
بنگلہ دیش میں محصور روہنگیا پناہ گزیں اپنے مصائب کا حال بتا رہے ہیں۔ فائل فوٹو

میانمار میں جبر سے بچنے کے لئے ترک وطن کرکے بنگلہ دیش جانے والے روہنگیا مسلمانوں کا مسئلہ بحرانی صورت اختیار کر گیا ہے۔ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق 750,000 پناہ گزیں اس وقت بنگلہ دیش کے کاکسس بازار میں کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں جہاں انھیں روزمرہ کی بنیادی سہولتوں تک سے محرومی کا سامنا ہے۔

پروگرام ’جہاں رنگ‘ میں بہجت جیلانی سے بات کرتے ہوئے فلاحی تنظیم ’ فرینڈز فار ہیومینٹی‘ کے احتشام ارشد نظامی کا کہنا تھا کہ اگر چہ غیر سرکاری تنظیمیں وہاں فعال ہیں جن کا تعلق امریکہ۔ پاکستان اور یورپ سے ہے۔ خاص طور پر ڈاکٹروں کے گروپ خدمت کر رہے ہیں۔ لیکن جو کام اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہونا چاہئے تھا وہ نہیں ہو رہا۔

ان کی تنظیم ’فرینڈز فار ہیومینٹی‘ نے وہاں سولر لایٹس فراہم کی ہیں کیونکہ روشنی کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے مسائل بڑھ جاتے ہیں اور اب وہ حفظان صحت کی سہولتوں والے پیکج فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ احتشام نظامی کہتے ہیں کہ ان لوگوں کے پاس شہریت بھی نہیں ہے اور بنگلہ دیش کی حکومت یہ نہیں چاہتی کہ وہ ان کے شہروں میں بسی آبادی کے ساتھ شامل ہوں۔ بنگلہ دیش متعدد مسائل کے پیش نظر ان لوگوں کی میانمار واپسی کا خواہاں ہے جس کے لئے اس نے میانمار کی حکومت سے معاہدہ بھی کیا تھا تاہم اقوام متحدہ کو ان کے خلاف جبر وستم کی وجہ سے مخصوص تحفظات ہیں ۔

’پبلک انٹر نیشنل لا اینڈ پالیسی گروپ واشنگٹن‘ کی طرف سے کریمینل ٹریبیونل بنانے پر زور دیا گیا ہے تاکہ ظلم وستم کے ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ بیرسٹر امجد ملک سے ہمارا سوال یہ تھا کہ کیا اس نوعیت کا ٹریبیونل قائم کیا جا سکتا ہے جس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ جنگی جرائم کے زمرے میں ایسا کرنا ممکن ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ حل تلاش کرنے کی بات بھی انھیں سے کی جارہی ہے جو اس ساری صورتحال کے ذمے دار ہیں۔ بیرسٹر ملک کہتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو چاہئے کہ وہ میانمار کی حکومت پر پابندیاں لاگو کرتے ہوئے دباؤ بڑھائے تاکہ وہ ان کو شہریت دیتے ہوئے ان کی بحفاظت بحالی کو ممکن بنائے۔

’ پاکستان ہاوس‘ کے ڈائریکٹر جنرل رانا اطہر جاوید کہتے ہیں کہ بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے حوالے سے افغانستان اور مشرق وسطیٰ میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اقوام متحدہ کو اس کام کی ذمہ داری لینا چاہئے اور بین الاقوامی برادری کو ان لوگوں کے لئے کام کرنا چاہئے جن سے غیر انسانی رویہ اپنایا گیا ہے۔

اس بارے میں مزید معلومات کیلئے اس لنک پر کلک کریں:

please wait

No media source currently available

0:00 0:05:59 0:00

XS
SM
MD
LG