رسائی کے لنکس

کیا مزید امریکی فوجی افغانستان بھیجنے سے طالبان پسپائی ممکن ہوگی؟


سلامتی سے متعلق تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ فوجوں کی تعداد میں اضافے سے کوئی اثر نہیں پڑے گا، جب تک کہ افغان حکومت کے اندر اصلاحات نہیں لائی جاتیں اور افغانستان میں شدت پسند گروپوں سے رابطے منقطع کرنے کے لیے پاکستان کو قائل نہیں کیا جاتا

نور زاہد

ایسے میں جب مزید امریکی فوجیں افغانستان بھیجنے کا معاملہ زیرِ غور ہے، تجزیہ کار تذبذب کا شکار ہیں آیا ایسے اقدام کے نتیجے میں پھر سے سرگرم ہونے والے طالبان کو پسپا کرنے میں مدد ملے گی یا باغیانہ ذہن رکھنے والے گروہوں کو مذاکرات کی میز پر لایا جاسکتا ہے؟


توقع کی جا رہی ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اس ماہ کے اواخر میں افغان پالیسی کا اعلان کرنے والے ہیں، اور اطلاعات کے مطابق، اُن کے مشیروں نے امریکی فوج میں 5000 کا اضافہ کرنے کی سفارش کی ہے۔


سلامتی سے متعلق تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ فوجوں کی تعداد میں اضافے سے کوئی اثر نہیں پڑے گا، جب تک کہ افغان حکومت کے اندر اصلاحات نہیں لائی جاتیں اور افغانستان میں شدت پسند گروپوں سے رابطے منقطع کرنے کے لیے پاکستان کو قائل نہیں کیا جاتا۔


ایونس کوسکناس واشنگٹن میں قائم ’نیو امریکہ‘ نامی تحقیقاتی ادارے میں سینئر فیلو ہیں۔ بقول اُن کے، ’’فوجوں میں اضافے سے طالبان کو شکست نہیں دی جا سکتی، اس سے اُن کی پیش قدمی کو بھی نہیں روکا جا سکتا‘‘۔


اُنھوں نے کہا کہ ’’اِس سے اُنھیں مذاکرات کی میز پر بھی نہیں لایا جاسکتا۔ وہ کیوں آئیں؟ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ جیت رہے ہیں اور 3000 فوجیوں کے اضافے سے آپ صورتِ حال کو ڈرامائی انداز سے تبدیل نہیں کرسکتے‘‘۔


جمعرات کے روز امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کی قائمہ کمیٹی سے سماعت کے دوران اپنے کلمات میں، نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائرکٹر، ڈین کوئٹس نے کہا کہ امکان ہے کہ دیہات میں طالبان کو سبقت ملے، ایسے میں جب ’’خطرناک معاشی صورتِ حال‘‘ کے باعث، ملکی حکومت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔


امریکہ کے ایک نگران ادارے کے اندازے کے مطابق، ملک کے تقریباً 11 اضلاع پر طالبان کا کنٹرول ہے، جب کہ 30 فی صد وہ علاقہ ہے جہاں وہ افغان افواج
کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔


تجزیہ کار کوئٹس اور دیگر امریکی اہل کاروں کی رائے سے متفق ہیں، جن کا کہنا ہے کہ افغان سکیورٹی اور فوجی ڈھانچے کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔


کوسکناس نے کہا ہے کہ ’’ضرورت اِس بات کی ہے کہ افغان حکومت قابلیت کی بنیاد پر سکیورٹی کے کلیدی عہدوں پر باصلاحیت افراد کا تقرر کیا جائے۔ مضبوط قیادت کے بغیر، جن کی اِن دِنوں دفاع و داخلہ کی وزارتوں، اور نفاذ پر مامور دستوں کے حلقوں میں شدید خامیاں ہیں، فوج کی تعداد میں اضافے سے سکیورٹی میں بہتری یا طالبان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے انسداد میں کمی نہیں لائی جا سکتی‘‘۔


بڑھتی ہوئی باغیانہ سرگرمی سے مقابلے کے علاوہ، افغان سکیورٹی افواج کو اپنی صفوں میں شدت پکڑتی ہوئی بدعنوانی کا سامنا ہے۔


تجزیہ کار، ڈیوڈ ڈے روشے واشنگٹن میں قائم ’نیشنل ڈفنس یونیورسٹی‘ میں تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ اُن کے الفاظ میں ’’غیر مؤثر اور بدعنوان افغان حکومت بھی ایک مسئلہ ہے۔ میرے خیال میں، اصلاح کے معاملے میں افغان حکومت کو اولیت دینے کی ضرورت ہے‘‘۔


نگران ادارے، ’یو ایس اسپیشل انسپیکٹر جنرل فور افغانستان ری کنسٹرکشن (ایس آئی جی اے آر)‘ نے بارہا متنبہ کیا ہے کہ رشوت اور بد انتظامی کے نتیجے میں ملک میں فوجی ناکامی کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔


افغان قانون ساز، عبدالجبار قہرمان نے کہا ہے کہ ’’افغانستان کے پاس کافی سکیورٹی افواج ہیں اور اگر درست قیادت کے زیر سایہ اُنھیں مناسب حکمتِ عملی سے کارگر طور پر استعمال کیا جائے تو وہ ملک کے دفاع کی اہلیت رکھتے ہیں‘‘۔

قہرمان کو افغان صدر اشرف غنی نے کشیدگی کے شکار جنوبی صوبہٴ ہیلمند میں طالبان سے نمٹنے کے کام کی نگرانی کے لیے تعینات کیا ہے۔


تجزیہ کار کہتے ہیں کہ مزید امریکی فوج زیادہ سودمند ہوگی اگر وہ افغان افواج
کے ساتھ کھڑی ہو اور اُنھیں اِس قابل بنائیں کہ وہ کامیاب ہوں۔


قادر صفی کابل یونیورسٹی کے شعبہٴ سیاست کے پروفیسر ہیں۔ بقول اُن کے، ’’نئے منصوبے کے تحت افغان قومی فوج کی استعداد بڑھنی چاہیئے، جنھیں امریکہ تربیت فراہم کرتا رہا ہے۔ اُنھیں مزید تربیت اور ہتھیار دیے جانے چاہئیں، تاکہ بالآخر، وہ ملک کے دفاع اور سلامتی کی ذمہ داری سنبھال سکیں‘‘۔


پاکستان کا معاملہ


لیکن، طالبان محض افغانستان ہی میں سرگرم نہیں۔


ایک طویل مدت سے افغانستان پاکستان پر الزام عائد کرتا آیا ہے کہ وہ شدت پسند گروپوں کو برداشت کر رہا ہے اور اُن کی حمایت کرتا ہے، جو اُن کی مشترکہ سرحدوں کے آرپار حملوں میں ملوث ہیں۔

امریکہ بھی پاکستان پر زور دیتا آیا ہے کہ وہ ایسے گروہوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کے لیے مزید اقدام کرے۔ پاکستان اِن الزامات کی تردید کرتا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو درپردہ لڑائی کے لیے استعمال ہونے دیتا ہے، یہ کہتے ہوئے کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے۔

XS
SM
MD
LG