رسائی کے لنکس

logo-print

دنیا میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 42 کروڑ سے زائد ہو گئی: رپورٹ


اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پچھلے پینتیس سالوں کے دوران پاکستان میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد تقریبا دوگنی ہوگئی ہے جہاں اس وقت شوگر میں مبتلا بالغ مردوں کی تعداد  4.9 سے 12.6  اور عورتوں کی تعداد 5.9 سے بڑھکر  12.1 فیصد ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کی 8.5 فیصد آبادی ذیابیطس کا شکار ہے اور یہ مرض خاص طور پر متوسط آمدن والے ملکوں میں عام ہو گیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت 'ڈبلیو ایچ او' کی طرف سے بدھ کو شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس مرض میں مبتلا افراد کی تعداد میں پچھلے 35 برسوں کے دوران لگ بھگ چار گنا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد دنیا بھر میں اس بیماری کے مریضوں کی تعداد تقریبا بیالیس کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے ۔

رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ 1980ء میں دنیا بھر میں ذیابیطس یا شوگر کے بالغ مریضوں کی مجموعی تعداد 10 کروڑ80 لاکھ تھی جبکہ 2014ء میں اس مرض میں مبتلا افراد کی تعداد 42کروڑ 20 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

بین الاقوامی سطح پر شوگر کا پھیلاؤ

یہ مطالعاتی رپورٹ اقوام متحدہ کے 'صحت کے عالمی دن' 7 اپریل سے ایک روز قبل میڈیکل جرنل 'دی لینسٹ' میں شائع ہوئی ہے جس کے نتائج نے دنیا بھر میں ذیابیطس کے رجحانات کے حوالے سے جامع اندازے فراہم کئے ہیں۔

اپنے مطالعے کے لیے تحقیق کاروں کی ٹیم نے 751 مطالعوں کا تجزیہ کیا ہے اور مجموعی طور پر 44 لاکھ بالغ شرکاء کے اعدادوشمار کا استعمال کرتے ہوئے دنیا کے200 ممالک میں بالغ افراد میں ذیابیطس کے پھیلاؤ کا اندازہ لگایا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 1980 سے 2014 کے درمیان دنیا بھر میں شکر کی بیماری عورتوں کے مقابلے میں مردوں میں زیادہ عام ہوئی ہے۔

اعدادوشمار کی تفصیلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ1980 کے بعد سے عالمی سطح پر ذیابیطس مردوں میں تقریبا دوگنی یعنی 4.3 فیصد سے بڑھ کر 9.0فیصد ہوگئی ہے۔

اسی طرح عورتوں میں ذیابیطس میں دو تہائی اضافہ کے بعد شوگر میں مبتلا عورتوں کی تعداد 5.0 فیصد سے بڑھ کر 7.9 فیصد ہوگئی ہے۔

محققین کی طرف سے مطالعہ میں ذیابیطس کی دونوں اقسام ٹائپ 1 اور ٹائپ 2 میں فرق نہیں کیا گیا ہے لیکن لیکن ذیابیطس کے تقریبا 85 سے 95 فیصد بالغ مریض ذیابیطس ٹائپ ٹو کا شکار تھے۔

ذیابیطس ٹائپ ون ایک جینیاتی کیفیت ہے اور ذیابیطس ٹائپ ٹو کو غیر صحت مند غذا اور طرز زندگی کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2014 میں دنیا بھر میں ہر تین میں سے ایک فرد زیادہ وزنی تھا اور ہر 10 میں سے ایک یا زیادہ افراد موٹاپے کا شکار تھے جبکہ محققین کی طرف سے عالمی سطح پر موٹاپے کو ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔

دنیا کی بالغ آبادی میں شوگر کا تناسب

رپورٹ سے پتا چلا کہ 2014 میں شوگر کے مریضوں کی نصف آبادی دنیا کے پانچ ممالک چین، بھارت ، امریکہ ، برازیل اور انڈونیشیا میں رہتی تھی۔

اسی طرح 1980 کے بعد دنیا کے کم آمدن اور متوسط آمدن والے ممالک مثلا چین، بھارت، پاکستان، انڈونیشیا، مصر اور میسیکو میں شوگر کے مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

خاص طور پر چین اور بھارت میں شوگر مردوں میں دوگنی سے زیادہ ہو گئی ہے۔

اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پچھلے پینتیس سالوں کے دوران پاکستان میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد تقریبا دوگنی ہوگئی ہے جہاں اس وقت شوگر میں مبتلا بالغ مردوں کی تعداد 4.9 سے بڑھ کر 12.6 فیصد اور عورتوں کی تعداد 5.9 سے بڑھ کر 12.1 فیصد ہوگئی ہے۔

علاوہ ازیں پاکستان، میکسیکو، مصر اور انڈونیشیا شوگر کے بالغ مریضوں کی سب سے بڑی تعداد رکھنے والے 10 ممالک میں شامل ہوگئے ہیں۔

ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں سب سے بڑا اضافہ پیسفک جزائر کے لوگوں میں دیکھا گیا جس کے بعد مشرق وسطی اور شمالی افریقہ مثلا مصر ،اردن اور سعودی عرب میں۔

لگ بھگ چار عشروں کے دوران شوگر میں مبتلا امریکی عورتوں کی تعداد میں 50 فیصد اضافہ ہوا اور مردوں میں یہ مرض 80 فیصد زیادہ ہوگیا ہے۔ اس کے برعکس مغربی یورپ میں بالغ افراد میں ذیابیطس کی شرح نسبتا مستحکم ہے۔

اقدامات کی ضرورت

ادارہ ڈبلیو ایچ او کے مطالعے کی قیادت کرنے والے محقق پروفیسر مجید عزتی نے کہا کہ ''ذیابیطس عالمی صحت عامہ کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے اور عمر رسیدہ آبادی میں اضافے اور موٹاپے کی بڑھتی ہوئی سطح کا مطلب ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں پچھلے سالوں کے دوران حیران کن اضافہ ہوا ہے۔''

ایمپریل کالج لندن سے منسلک تحقیق کے اہم مصنف پروفیسر مجید عزتی نے کہا کہ ''اس مرض کی شرح میں سب سے بڑا اضافہ چین اور بھارت اور دیگر متوسط آمدنی والے ممالک میں ہوا ہے اور اگر موجودہ رجحان جاری رہا تو 2025تک اقوام متحدہ کے عالمی ہدف کو پورا کرنے کے امکانات تقریبا نا ہونے کے برابر ہو جائیں گے۔''

انھوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موٹاپا شوگر کے خطرے کا ایک اہم عنصر ہے اور موٹاپے کو کنٹرول کرنے والی ہماری کوششیں اب تک کامیاب نہیں ہوئی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل مارگریٹ چن نے کہا کہ نتائج میں غیر صحتمند غذا اور غیرفعال طرز زندگی کو بدلنے کی ایک فوری ضرورت دکھائی دیتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ 2012 میں شوگر کی بیماری کی وجہ سے کم ازکم15 لاکھ اموات واقع ہوئی تھیں۔

دریں اثناء ہر سال اس مرض کے ضمنی اثرات کی وجہ سے ہونے والی دیگر بیماریوں سے مرنے والے افراد کی تعداد22 لاکھ ہے جبکہ شوگر میں مبتلا 43 فیصد افراد 70 برس سے پہلے ہی فوت ہوجاتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG