رسائی کے لنکس

logo-print

تعلیمی معیار کا تقابلی جائزہ، ایشیائی طالب علم نمایاں


ساٹھ ملکوں میں حساب، مطالعہ اور سائنس کے مضامین کے مقابلے کے نتائج سے یہ بات معلوم ہوئی کہ شنگھائی سب سے آگے ہے

تعلیم سے متعلق ایک عالمی جانچ کے نتائج کے مطابق، چین کے سب سے بڑے شہر، شنگھائی کے طالب علم دنیا بھر میں بہترین قرار پائے ہیں، جب کہ امریکی طالب علم اب بھی بہت پیچھے ہیں۔

بین الاقوامی طالب علموں کا جائزہ (پیسا) کے 2012ء کے پروگرام کے نتائج منگل کے روز جاری کیے گئے۔ ساٹھ ملکوں میں حساب، مطالعہ اور سائنس کے مضامین کے مقابلے کے نتائج سے یہ بات معلوم ہوئی کہ شنگھائی سب سے آگے ہے۔

صنعتی تعاون اور ترقی سے متعلق تنظیم ہر تین برس بعد 15 سے 16 برس کے طالب علموں کا مقابلہ کراتی ہے۔

اِس تازہ ترین جائزے میں، مشرقی ایشیائی معیشتیں سب سے آگے تھیں، جنھوں نے تمام تین مضامین 10 کے پیمانے پر اعلیٰ ترین، یعنی سات نمبر حاصل کیے۔

مجموعی طور پر، امریکی نوجوان چھتیسویں نمبر پر آئے، جب کہ حساب کے مضمون میں اُن کا شمار کم ترین بین الاقوامی شرح پر تھا، جب کہ مطالعے اور سائنس کے مضامین کا معیار محض عام سطح کا تھا۔

سنہ 2012کے موسم خزاں میں ہونے والی اِس جانچ میں دنیا بھر کے 65ممالک کے پانچ لاکھ سے زائد طالب علم شریک ہوئے، جب کہ اِس میں عالمی معیشت کے 80 فی صد سے زائد اسکول نظاموں کی نمائندگی دی گئی۔
XS
SM
MD
LG