رسائی کے لنکس

logo-print

تمباکو پر ٹیکس سے جانیں بچائی جا سکتی ہیں: عالمی ادارہ صحت


عالمی ادارہ صحت کا اندازہ ہے کہ اگر اس سلسلے میں سخت اقدامات نہ کیے گئے تو 2030ء تک تمباکو سے ہونے والی اموات کی سالانہ تعداد 80 لاکھ ہو جائے گی۔

عالمی ادارہ صحت نے حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ سگریٹوں اور تمباکو کی دیگر مصنوعات پر ٹیکسوں میں اضافہ کریں۔ عالمی ادارہ صحت کی نئی رپورٹ میں ٹھوس شواہد پیش کیے گئے ہیں کہ ٹیکسوں میں اضافہ تمباکو نوشی کی عالمی وبا کو روکنے کے بہترین طریقوں میں سے ایک ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ تمباکو پر ٹیکسوں میں اضافے سے اس کی مصنوعات کا استعمال مہنگا ہو جاتا ہے جو اس کے بقول لوگوں کو تمباکو نوشی سے روکنے کا سب سے مؤثر اور کم لاگت والا طریقہ ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے غیر متعدی امراض کی روک تھام کے محکمہ کے ڈائریکٹر ڈگلس بیچر اسے "سب کی جیت" کا طریقہ سمجھتے ہیں۔

بیچر نے کہا کہ چین اور فرانس سے آنے والے شواہد سے پتا چلتا ہے کہ تمباکو کی مصنوعات کی زیادہ قیمتوں سے تمباکو نوشی اور اس سے متعلق بیماریوں مثلاً پھیپھٹروں کے سرطان سے ہونے والی اموات میں کمی واقع ہوئی ہے۔

درمیانی آمدن رکھنے والے ملک ترکی کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ تمباکو پر ٹیکس میں 50 فیصد اضافے سے 2009ء اور 2014ء کے درمیان ملک میں تمباکو نوشی میں 13 فیصد کمی واقع ہوئی۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ان کامیابیوں کے باوجود دنیا بھر میں تمباکو کے کنٹرول کے لیے ٹیکسوں کو سب سے کم استعمال کیا جاتا ہے۔ ادارہ کا کہنا ہے کہ صرف 33 ملک ایسے ہیں جہاں ایک پیکٹ سگریٹ کی خوردہ قیمت پر 75 فیصد سے زیادہ ٹیکس عائد ہے۔

بیچر نے اس کا الزام تمباکو کی صنعت کے ’’چالاک ہتھکنڈوں‘‘ پر عائد کیا۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال ساٹھ لاکھ افراد تمباکو نوشی سے متعلق امراض کا شکار ہو کر وقت سے پہلے ہی موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اور ان کی اکثریت ترقی پذیر ممالک سے تعلق رکھتی ہے۔

یہ تعداد ایڈز، تپ دق اور ملیریا سے ہونے والی اموات کی تعداد سے زیادہ ہے۔

عالمی ادارہ صحت کا اندازہ ہے کہ اگر اس سلسلے میں ٹھوس اقدام نہ کیے گئے تو 2030ء تک تمباکو سے ہونے والی اموات کی سالانہ تعداد 80 لاکھ ہو جائے گی۔

XS
SM
MD
LG