رسائی کے لنکس

logo-print

لیبیا پر عائد ہتھیاروں کی پابندی اٹھائی جائے: عالمی طاقتیں


کیری نے اعلان کیا کہ امریکہ اور بین الاقوامی برادری ’’انسانی ہمدردی کی بنیاد پر لیبیا کی نئی حکومت کو معاشی اور سکیورٹی کے سلسلے میں حمایت فراہم کرنے پر تیار ہے‘‘۔ تاہم، اُنھوں نے کہا کہ عالمی طاقتیں لیبیا کی سرزمین پر ’’فوجوں کی تعیناتی کی بات نہیں کر رہے ہیں‘‘

عالمی طاقتوں کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے عائد کردہ اسلحے پر عارضی بندش ہٹانے کے لیے وہ لیبیا کی نئی حکومت کی حمایت کریں گے۔ یہ اقدام داخلی سکیورٹی کے خدشات اور داعش کے شدت پسندوں سے نبردآزما ہونے میں معاون ثابت ہوگا۔

وزیر خارجہ جان کیری نے اس بات کا اعلان کیا، جس سے قبل امریکہ اور اٹلی کی زیر صدارت میں کثیر ملکی اجلاس منعقد ہوا۔
کیری نے کہا کہ امریکہ اور بین الاقوامی برادری ’’انسانی ہمدردی کی بنیاد پر لیبیا کی نئی حکومت کو معاشی اور سکیورٹی کے سلسلے میں حمایت فراہم کرنے پر تیار ہے‘‘۔

تاہم، اُنھوں نے کہا کہ عالمی طاقتیں لیبیا کی سرزمین پر ’’فوجوں کی تعیناتی کی بات نہیں کر رہے ہیں‘‘۔

قومی معاہدے کی بنیاد پر قائم کی جانے والی نئی حکومت جو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ہے اُسے متحارب دھڑوں اور داعش سے وابستہ شدت پسندوں کی جانب سے چیلنج درپیش ہیں، جنھوں نے سرطے کے وسطی شہر میں اڈا قائم کر رکھا ہے، جس اڈے سے وہ تیونس کے ہمسایہ ملک پر حملے کرتے ہیں۔

جمعے کے روز ایک مشترکہ اخباری کانفرنس میں لیبیا کے وزیر اعظم فیاض السراج نے اپنے ملک کی صورت حال کو معیشت اور سکیورٹی کے حوالے سے’’خراب‘‘ قرار دیا۔

اُنھوں نے عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ لیبیا کی افواج کو اضافی تربیت اور ہتھیار فراہم کریں۔ اُنھوں نے کہا کہ ملک کے اندر دہشت گردی کے بڑھنے کی صورت میں لیبیا کے ہمسائے ’’بچ نہیں پائیں گے‘‘۔

بقول اُن کے، ’’ساحل، مغرب ، مشرق قریب اور بحیرہ روم اور یورپ تک رسائی کے لیے لیبیا ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے، اور داعش کی جانب سے لیبیا پر اپنے نقش قدم جمانا ہر ایک کے لیے خرابی کا باعث ہوگا‘‘۔

اس سے قبل، امریکی محکمہٴ خارجہ کے ایک اعلیٰ اہل کار نے اس توقع کا اظہار کیا تھا کہ پیر کے روز ہونے والے اِس وزارتی اجلاس کے تمام شرکا اس بات پر اتفاق کریں گے کہ داعش ہی ’’لیبیا اور خطے کے لیے سب سے بڑا مسئلہ‘‘ ہے۔
اجلاس میں لیبیا کی نئی حکومت اور اُس کو لاحق سکیورٹی چیلنجوں پر دھیان مرکوز رہا، جسے اب بھی سنہ 2011میں معمر قذافی کے ہٹائے جانے اور ہلاکت کے پیدا ہونے والی کشیدگی سے نبردآزما ہونے کا معاملہ درپیش ہے۔

عالمی طاقتوں کو توقع ہے کہ قومی معاہدے کے تحت تشکیل پانے والی حکومت ملک کے اتحاد کا باعث بنے گی۔

خطے کے 19 دیگر ملکوںٕ کے نمائندوں نے بات چیت میں حصہ لیا، جب کہ اجلاس میں اقوام متحدہ، افریقی یونین، یورپی یونین اور عرب لیگ کے نمائندے شریک تھے۔

کیری کے لیے پیر کے دِن دوسرا اہم نکتہ نگورنو کاراباخ کو مستحکم کرنے کی کثیر قومی کاوش کو آگے بڑھانا تھا۔ نگورنو کاراباخ آذربائیجان کی حدود کے اندر آرمینیائی نسل کا خطہ ہے جہاں اپریل میں شدید لڑائی ہوچکی ہے۔

XS
SM
MD
LG