رسائی کے لنکس

logo-print

دنیا کے کم عمر ترین 'مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل' سے ملاقات


پاکستانی نژاد برطانوی اعیان قریشی نے دنیا کے کم عمر ترین مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل ارفع کریم، عزیز اعوان اور مہروز یاور کا ریکارڈ توڑا ہے۔

ٹیکنالوجی کی دنیا میں حیرت انگیز ایجادات کا ہونا کوئی نئی بات نہیں رہی ہے۔ اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آئی ٹی کی پیشہ ورانہ مہارتوں کے ساتھ کھیلنا بھی شاید پاکستانی بچوں نے اپنا شوق بنا لیا ہے۔ پانچ سالہ اعیان قریشی نے کھلونوں سے کھیلنے کی عمر میں دنیا کے کم عمرترین 'مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل ' کا ریکارڈ قائم کر کے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔

پاکستانی نژاد برطانوی اعیان قریشی نے دنیا کے کم عمر ترین مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل ارفع کریم، عزیز اعوان اور مہروز یاور کا ریکارڈ توڑا ہے جس کے بعد وہ مائیکرو سافٹ آپریٹنگ سسٹم میں پیشہ ورانہ مہارت رکھنے والے دنیا کے سب سے کم عمرترین 'ایم سی پی' بن گئے ہیں۔

پانچ سالہ اعیان قریشی نے برمنگھم سٹی یونیورسٹی سے مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل کےسرٹیفیکٹ کے لیے اسٹینڈرڈ امتحان پاس کرکے دنیا کے کم عمرترین ایم سی پی مہروز یاور کا ریکارڈ بریک کیا ہے جنھوں نے ساڑھے چھ سال کی عمر میں یہ ریکارڈ قائم کیا تھا۔

اعیان قریشی کے والد عاصم قریشی اور والدہ میمونہ قریشی کا تعلق لاہور سے ہے۔ عاصم ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں جبکہ والدہ میمونہ ڈاکٹر ہیں۔ اعیان کی پیدائش لاہور کی ہے۔ ان کا خاندان سال 2009 میں پاکستان سے برطانیہ منتقل ہوا اور کووینٹری میں رہائش اختیار کی جہاں اعیان کلفرڈ برج اسکول میں پہلی جماعت کا طالب علم ہے۔

'وائس آف امریکہ ' سے ایک خصوصی انٹرویو میں اعیان کی والدہ میمونہ قریشی نے بتایا کہ ہر ماں کی طرح اپنے بچے کی کامیابی پرمیں بہت زیادہ خوش ہوں۔ اعیان نے اتنی کم عمری میں اپنا اور ملک کا نام روشن کیا ہے اس کے لیے میں اللہ کی بے حد شکر گذار ہوں۔

"اعیان بے حد ذہین بچہ ہے۔ اس کی یاداشت کمال کی ہے اور وہ ارادے کا پکا ہے۔ لیکن آئی ٹی سرٹیفیکٹ کے لیے امتحان میں بیٹھنے اور کامیابی حاصل کرنے کے پیچھے اس کے والد کی مکمل توجہ اور ہماری کوششیں شامل تھیں باقی کامیابی دینے والی اللہ کی ذات ہے۔"

میمونہ قریشی نے بتایا کہ اعیان کی ذہانت کے بارے میں ہمیں اتنا علم نہیں تھا لیکن جب اعیان بہت ہی چھوٹا تھا اس وقت بھی وہ میری باتیں بہت انہماک سے سنتا تھا۔ اس کے سوالات مجھے بہت حیران کرتے تھے کیونکہ اس کے سوالات اس کی عمر سے کہیں زیادہ بڑے ہوتے تھے۔

"میں سمجھتی ہوں کہ والدین کی حیثیت سےہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اعیان کی ذہانت کو مثبت سمت میں لے کر جائیں، میں یہ نہیں چاہوں گی کہ میرا بیٹا ہر روز کوئی ریکارڈ بریک کرے لیکن اتنا ضرور چاہتی ہوں کہ اس کا مستقبل شاندار ہو اور وہ جس فیلڈ میں بھی کام کرے وہاں نمایاں نظر آئے۔

اعیان نے دنیا کے ینگسٹ مائیکرو سافٹ پروفیشنل بننے کے لیے کتنی محنت کی؟ اس سوال کے جواب میں اعیان قریشی نے 'وی او اے 'سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ امتحان کی تیاری کیلئیے میں نے مائیکرو سافٹ کی بہت سی کتابیں پڑھیں اور زیادہ پریکٹس کی۔ لیکن کمپیوٹر پر کوڈ لکھنا، آپریٹنگ سسٹم انسٹال کرنا، کمپیوٹر سے متعلق مسائل حل کرنا اور آئی ٹی کے اسباق یاد کرنا مجھے میرے والد نے سکھایا۔

اعیان نے بتایا کہ اس کا پسندیدہ مضمون ریاضی ہے اور فیورٹ اسپورٹس کرکٹ ہے جبکہ تیراکی کرنا، چھپن چھپائی کھیلنا اور اپنے چھوٹے بھائی ریان کے ساتھ کھیلنا بہت اچھا لگتا ہے۔ اعیان چاہتا ہے کہ مستقبل میں وہ آئی ٹی کی فیلڈ میں ہی کام کرے یا پھر وہ ریاضی دان بننے کا خواہشمند ہے۔

اعیان کے والد عاصم قریشی نے اعیان کے بچپن کے حوالے سے 'وی او اے' سے گفتگو میں کہا کہ اعیان جب مشکل سے ڈھائی برس کا تھا اس وقت بھی یہ مجھے کمپیوٹر پر کام کرتا ہوا دیکھ کر میرے نزدیک بیٹھ جاتا تھا۔ مجھے اس کے شوق کا اندازہ ہو گیا تھا۔ اس نے اسی عمر میں کمپیوٹر استعمال کرنے سے متعلق بنیادی معلومات سیکھ لی تھیں لیکن میں محسوس کر رہا تھا کہ اعیان کو کمپیوٹر پر کام کرنے سے زیادہ کمپیوٹنگ یا یوں کہہ لیجئے کہ کمپیوٹر اور سی پی یو کے پارٹس کھولنے اور اس بارے میں جاننے میں زیادہ دلچسپی تھی۔ جب بھی میں الیکٹرانک میں کوئی نئی چیز اپ ڈیٹ کرتا تو اسپئیر ٹیک اس کا کھلونا بن جاتی۔ اسے چار برس کی عمر میں ہارڈوئیرکی تیاری اور ونڈوز کے مختلف ورژنز کےبارے میں مکمل معلومات حاصل ہو گئی تھیں اور مجھے اس بات پر یقین نہیں ہوتا تھا کہ اعیان کتنی آسانی سے ہر چیز سیکھتا جارہا ہے اور یاد کرتا جارہا ہے۔

عاصم قریشی نے بتایا کہ ایک عام بچے کی طرح کمپیوٹر سے بے حد لگاؤ رکھنے کے باوجود اعیان کارٹون دیکھنا یا ویڈیو گیم کھیلنا پسند کرتا ہے۔ اس کے لیے کمپیوٹر بھی ایک کھلونا ہےجس کے ساتھ کھیل کر وہ زیادہ مطمئن نظر آتا ہے لیکن کمپیوٹر پر کھیلنے کے لیے ہم نے اس کے اوقات مقرر کر رکھے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ جب ہم نے اعیان سے مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل کے امتحان کی تیاری کرنے کے بارے میں بات کی تو وہ ذرا نہیں گھبرایا۔ لیکن اس فیصلے کی وجہ سے ہمارے کندھوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہو گئی تھی کیونکہ اعیان کمپیوٹر بیسڈ امتحان، اس کی لینگویج یا اصطلاحات کو سمجھنے کے لیے بہت چھوٹا تھا۔ اسے امتحان کے لیے تیار کرانے کے لیے ضروری تھا کہ ایک بچے کی سطح پر جاکر اسے سمجھایا جائے۔ ابتدا میں یہ کام واقعی بہت مشکل تھا لیکن میں نے اسے اعیان کے لیے ممکنہ حد تک آسان بنایا اور پھر اس چیلنچ کو اعیان نے اپنی ذہانت، لگن اور ارادے سے پورا کر دکھایا۔

مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل سرٹیفیکٹ کا امتحان پاس کرنا یقیناً بچوں کا کھیل نہیں ہے لیکن پانچ سال کی عمر میں اس بات کو ممکن بنانے والے اعیان قریشی کے والد کہتے ہیں کہ امتحان کو پاس کرنے کے لیے اعیان ہر روز لیب میں دو گھنٹے مطالعہ اور پریکٹس کی مشق کرتا تھا۔ اس نے لیب میں ونڈوز 8 اور 8.1 نصب کرنا, اسے ترتیب دینا اور ٹربل شوٹنگ استعمال کرنا شروع کر دیا۔

عاصم قریشی نے بتایا کہ اعیان کا اسکول سے آنے کے بعد کسی آئی ٹی تربیتی انسٹیٹیوٹ میں جانا بہت مشکل تھا۔ وقت کی کمی کی وجہ سے ہم نے لندن کی ایک آئی ٹی کمپنی سے امتحان کی تیاری کے لیے ضروری تربیتی مواد گھر پر منگوایا اور اعیان کے لیے گھر پر ہی ایک کمپیوٹر لیب بنائی۔ اعیان کے لیے امتحان دینے سے قبل یہ ایک بہت بڑا ایڈونچر ثابت ہوا۔

یہ کمپیوٹر لیب کئی کمپیوٹرز، لیپ ٹاپ، فائروال، سوئچز، راوٹرز اور دیگر آئی ٹی چیزوں پر مشتمل تھی۔ یہاں ہم نے کمپیوٹر نیٹ ورکنگ کنکشن قائم کیا۔ یہاں اعیان نے ایک کمپیوٹر سے دوسرے کمپیوٹر پر فائل، فولڈر یا ڈیٹا منتقل کرنا اور ریموٹ ایکسس کرنا سیکھا اور نیٹ ورکنگ کے چھوٹے موٹے تجربات کیے۔

عاصم قریشی نے اعیان کے سرٹیفیکٹ کے امتحان کے حوالے سے ایک دلچسپ واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ امتحان کے روز جب میں اعیان کو لے کر برمنگھم سٹی یونیورسٹی کے مائیکرو سافٹ سے متعلق کمرہ امتحان میں پہنچا تو انچارج نے اعیان کو کمرہ امتحان میں جانے سے روک دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ آج سے پہلے کبھی بھی یہاں اتنا چھوٹا بچہ سرٹیفیکٹ کا امتحان دینے کے لیے نہیں آیا ہے اور وہ اسے کمپیوٹر لیب میں اکیلے بھیجنے کی ذمہ داری نہیں لے سکتی ہے۔ تاہم ضروری معلومات حاصل ہو جانے کے بعد اعیان کو کمرہ امتحان میں داخل ہونے دیا گیا۔

مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل کے سرٹیفیکٹ کا یہ اسٹنڈرڈ امتحان تھا جسے دینے کے لیے ہر عمر کے لوگ وہاں آئے تھے۔ پرچہ تقریبا دوگھنٹے جاری رہا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اعیان کمرہ امتحان میں اکیلے جانے پر ذرا بھی نہیں گھبرایا حالاں کہ یہ اس کی زندگی کا پہلا امتحان تھا۔

اس سوال پر کہ وہ مستقبل میں اعیان قریشی کو کیا بنانا چاہیں گے؟ عاصم قریشی نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اعیان صرف تعلیم پر توجہ مرکوز رکھے وہ اس پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں ڈالنا چاہتے ہیں۔ لیکن جہاں تک اس کی آئی ٹی مہارتوں کا تعلق ہے تو وہ اپنی صلاحیتوں کو مزید بہتر بناتا رہے گا۔

ٹیکنالوجی کے افق پر جگمگانے والے اس ننھے ستارے کے والدین بھی اتنے ہی قابل ستائش ہیں جنھوں نے اعیان کی غیر معمولی صلاحیتوں کو اتنی کم عمری میں پہچانا اور اپنی بے پناہ مصروفیات میں سے اعیان کے لیے وقت نکالا اور اسے اسے ایک ایسا موقع فراہم کیا جس پر آج سارے پاکستان کو فخر ہے۔

XS
SM
MD
LG