رسائی کے لنکس

logo-print

آلودگی دنیا بھر میں اموات کا سب سے بڑا سبب ہے: رپورٹ


رپورٹ کے مطابق 2017 میں آلودگی کے سبب سب سے زیادہ اموات بھارت اور چین میں ہوئیں۔ (فائل فوٹو)

آلودگی ساری دنیا کے لیے اموات کا ایک بڑا سبب بنتا جا رہا ہے۔ عالمی ادارہ گلوبل الائنس آن ہیلتھ اینڈ پولوشن کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق صرف 2017 میں آلودگی اور اس سے متعلق دیگر بیماریوں سے دنیا بھر میں 83 لاکھ افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔

گلوبل الائنس آن ہیلتھ اینڈ پولوشن کی جانب سے نیشنل ہیلتھ منسٹریز، این جی اوز اور اقوام متحدہ کے محققین کی مدد سے تیار کردہ تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ آلودگی سے مرنے والے افراد کی تعداد ایڈز، ٹی بی اور ملیریا سے مرنے والے افراد کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔

حرف عام میں کہیں تو ان متعدی بیماریوں سے اتنے افراد نہیں مرتے جتنے آلودگی کے ہاتھوں ہر سال ہلاک ہو جاتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کے ہر خطے میں اموات کے 10 اہم ترین اسباب میں آلودگی سے ہونے والی ہلاکتیں کسی نہ کسی نمبر پر درج ہیں۔

رپورٹ کے مطابق آلودگی کے سبب 2017 میں سب سے زیادہ اموات بھارت اور چین میں ہوئیں۔ اس کے بعد نائیجیریا، انڈونیشیا اور پاکستان کا نمبر رہا جب کہ امریکہ ساتویں نمبر پر تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فضائی آلودگی نسل انسانی کی سب سے بڑی قاتل ہے جو دنیا بھر کے 40 فی صد انسانوں کو ہر سال نگل لیتی ہے۔

اس قدر وسیع پیمانے پر ہونے والی اموات کے باوجود دنیا اس مسئلے کو مسلسل نظر انداز کرتی آ رہی ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں لوگ نا تو تمباکو نوشی سے ہلاک ہوتے ہیں اور نا ہی الکوہل اور منشیات کے استعمال سے۔

ان اموات کا سب سے بڑا سبب غیر صحت بخش خوارک ہے جن کے استعمال سے وبائی یا متعدی مرض پھیلتے ہیں۔

گلوبل ایلائنس آن ہیلتھ اینڈ پولوشن کے ایگزیکیٹیو ڈائریکٹر رشل کپکا کا کہنا ہے کہ "اگر اب بھی آلودگی کے مسائل پر توجہ نہ دی گئی تو دنیا بھر میں صحت کا مسئلہ بحرانی کیفیت اختیار کر جائے گا۔"

اُن کے بقول، اب بھی حالات کنٹرول میں ہیں اور اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

رشل کپکا کا کہنا ہے کہ دھواں دینے والے روایتی چولہوں پر کھانا پکانا اور کوئلے کا استعمال ترک کرنے کے سبب آلودگی کم ہو رہی ہے لیکن فیکٹریوں، گاڑیوں اور زہریلے کیمیکل سے آلودگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

رشل کپکا کے مطابق بین الاقوامی سطح پر آلودگی سے نمٹنے پر نا تو توجہ دی جارہی ہے اور نا ہی اس سمت کوئی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

کپکا کہتے ہیں کہ حکام گاڑیوں اور تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والے دھویں کے اخراج کو آسانی سے کنٹرول کر سکتے ہیں۔ وہ فیکٹری کارکنوں کے لیے حفاظتی ملبوسات پہننا لازمی بنا سکتے ہیں جب کہ اسی طرح کے چھوٹے چھوٹے ڈھیروں اقدامات کی بدولت اس مسئلے سے نمٹا جا سکتا ہے۔

کپکا کے بقول، "اچھی خبر یہ ہے کہ آلودگی کے اثرات کو کم کرنے سے متعلق اقدامات پہلے سے موجود ہیں جو اس صورت حام میں معاون ہو سکتے ہیں۔ دنیا بھر کے ممالک ان پر آسانی سے عمل بھی کرسکتے ہیں اور اس پر زیادہ رقم بھی خرچ نہیں ہوتی۔"

اُن کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کے شہروں کی انتظامیہ چاہے تو از خود ان پر عمل درآمد کر کے آلودگی سے ہونے والی اموات سے بچ سکتے ہیں، یہ کوئی انوکھا کام نہیں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG