رسائی کے لنکس

واجد شمس الحسن بھی راہیِ ملک عدم ہوئے


واجد شمس الحسن، فائل فوٹو

واجد شمس الحسن بھی راہیِ ملک عدم ہوئے۔ صحافت اور پھر سیاست اور سفارت کے میدانوں میں بڑے باوقار انداز میں کئی عشرے گزارنے کے بعد وہ بھی اپنے سفر آخرت پر روانہ ہو گئے۔ اس سفر پر جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔ واجد شمس الحسن کا تعلق صحافیوں کی اس نسل سے تھا جس نے بدترین دور میں بہترین اور باوقار صحافت کی۔

میری ان سے پہلی ملاقات کراچی پریس کلب میں 1960 کے عشرے کے بالکل اواخر میں ہوئی۔ میں اس زمانے میں ایک جونئیر رپورٹر تھا اور واجد شمس الحسن اور ان جیسے صحافیوں کے طرز صحافت سے بہت متاثر تھا۔

اور اسی زمانے سے واجد صاحب کے ساتھ تعلق کا سلسلہ شروع ہوا جو آخر تک جاری رہا اور لندن میں ان کے دور سفارت میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ خبروں کے سلسلے میں ان سے جب بھی رابطہ کیا انہوں نے کبھی مایوس نہیں کیا۔

مجھے ایک واقعہ یاد آ رہا ہے۔ ایک مسئلے پر لندن میں ان کے دفتر میں مذاکرات ہونے تھے۔ اور کسی ذریعے سے اس خبر کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو پا رہا تھا۔

آخر کار میں نے واجد شمس الحسن کو فون کیا تو انہوں نےکہا کہ یار پارٹیاں آ چکی ہیں بات چیت شروع ہو گئی ہے۔ جیسے یہ ختم ہو گی تمہیں خبر مل جائے گی۔ اور یہی ہوا۔ ڈیڑھ گھنٹہ بھی نہیں گزرا تھا کہ ان کے دفتر سے فون آیا اور فون کرنے والے نے اپنا تعارف کرانے کے بعد مجھے خبر کی تفصیل سےآگاہ کیا۔

اسی طرح جب لندن میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے درمیان میثاق جمہوریت کے بارے میں معاملات طے ہو رہے تھے اور میں لندن میں مقیم تھا اور اس میں پیپلز پارٹی کی جانب سے واجد صاحب کا کلیدی رول تھا۔ انہوں نے اس حوالے سے خبریں دینے میں کبھی تامل سے کام نہیں لیا اور پرانے تعلق کو نبھایا۔

وہ جب صحافت میں آئے، پاکستان میں بہت افراتفری کا دور تھا۔ ایوب دور کا پریس اینڈ پبلیکیشن آرڈینینس بدستور نافذ تھا۔ آزادی صحافت کے لئے صحافیوں کی جد و جہد جاری تھی اور ان حالات میں صحافت کرنا کتنا مشکل تھا یہ وہی جان سکتے ہیں جو اس دور میں اس پیشے سے وابستہ تھے۔ واجد شمس الحسن ان صحافیوں میں سے تھے جنہوں نے بڑی جرآت کے ساتھ، جس حد تک ممکن تھا، آزادی اظہار کے پرچم کو بلند رکھا۔ اور بلاشبہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اس دور ابتلا کے ان صحافیوں میں سے تھے جن کی تعداد اب نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔

شاید سیاست بھی واجد صاحب کے ڈی این اے کا حصہ تھی، کیونکہ ان کا تعلق ایک سیاسی گھرانے سے تھا اور ان کے والد شمس الحسن صاحب آل انڈیا مسلم لیگ کی اہم شخصیت تھے اور قائد اعظم کے قریبی رفقاء میں شامل تھے۔

سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ اپنی بے پناہ عقیدت کے سبب جب وہ عملی صحافت سے الگ ہو کر سیاست اور خاص طور پر سفارت سے وابستہ ہوئے تو پھر اسی کے ہو کر رہ گئے اور آخر تک اپنی وفاداری نبھائی۔ بینظیر بھٹو کے اوّل دور میں نیشنل پریس ٹرسٹ کے چیئرمین اور پھر پیپلز پارٹی کے دور میں دو بار لندن میں پاکستان کے ہائی کمشنر رہے۔

اپنی صحافتی زندگی میں وہ شام کے انگریزی اخبار 'ڈیلی نیوز' سے وابستہ رہے۔ لیکن نوجوانی میں ہی ایڈیٹر اس وقت بنے جب اخبار کے پہلے ایڈیٹر ضمیر صدیقی کو سبکدوش کر دیا گیا۔ واقعہ کچھ یوں تھا کہ اپنے اقتدار کے بالکل آخری دور میں جب کہ جنرل ایوب بیمار تھے ان سے منسوب ایک بیان کے حوالے سے اخبار میں ایک سرخی لگی جس نے بڑی شہرت حاصل کی۔ سرخی تھی ''I want rest'' لیکن مزاج شاہ پر یہ بڑی گراں گزری۔ اور ظاہر ہے کہ پھر عتاب شاہی تو نازل ہونا ہی تھا۔

ضمیر صدیقی صاحب کو فارغ کر دیا گیا۔ واجد شمس الحسن اس زمانے میں کامن ویلتھ پریس یونین کی اسکالرشپ پر لندن میں تھے جس کے تحت تربیت کے ساتھ انگلینڈ کے کسی اخبار میں عملی تربیت بھی دی جاتی ہے۔ وہ جب وہاں سے واپس آئے تو ڈیلی نیوز کے ایڈیٹر مقرر کر دئیے گئے جسے آنے والے دنوں میں انہوں نے بڑی کامیابی اور پیشہ ورانہ مہارت سے چلایا۔ اور اسے پاکستان کے شام کے اخباروں کی صف اوّل میں لا کھڑا کیا۔

غازی صلاح الدین پاکستان کے ایک بہت سینئر صحافی اور واجد شمس الحسن کے ہم عصروں میں سے ہیں۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اپنی بھرائی ہوئی آواز اور بوجھل لہجے میں انہوں نے ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ جرنلزم ہم نے ایک ہی زمانے میں، ایک ہی ساتھ شروع کی۔ انہوں نے ڈوبتے لہجے میں کہا ''مجھے وہ دن یاد آتے ہیں جب ہم دونوں کرائم رپورٹنگ کے سلسلے میں کرائم رہورٹ دیکھنے کے لئے ہر صبح پولیس ہیڈ کوارٹر جاتے تھے''۔

''ان کے پاس ایک اسکوٹر ہوتا تھا اور میں اپنے گھر سے ایمپریس مارکیٹ ایک مقررہ جگہ پر پہنچتا تھا اور ان کا انتظار کرتا اور وہ وہاں سے مجھے لیتے اور پھر ہم دونوں پولیس ہیڈ کوارٹر جاتے۔ تو، جب سے ہی دوستی اور قربت رہی اور اب ان کے انتقال سے لگتا ہے کہ ایک پورا دور بیت گیا ایک زمانہ ختم ہو گیا''۔

انہوں نے کہا کہ واجد میں ایک خاص بات یہ تھی کہ ان کا انداز ہمیشہ Relaxed رہنا تھا۔ خوش مذاق مگر اندر سے انتہائی پر اعتماد۔ اور ان کا صحافتی انداز اردو شاعری کی ترکیب سہل ممتنہ کے مصداق لگتا تھا۔ انہوں نے کہا واجد دوستوں کے دوست، خوش مذاق مگر بہت با خبر اور پر اعتماد اور بہت اچھے صحافی تھے۔

غازی صلاح الدین نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے ان کی عقیدت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صحافت سے سیاست یا سفارت کی جانب ان کی منتقلی بھی اسی عقیدت کا نتیجہ تھا۔ اور وہ ان لوگوں میں سے تھےجن کا جمہوریت اور روشن خیالی سے ایک مضبوط commitment تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو کی تربیت میں بھی ان کا ایک اہم کردار ہے، کیونکہ وہ لندن میں تھے اور بلاول بھی وہیں زیر تعلیم تھے۔ اور ان کے انتقال پر بلاول کے تعزیتی پیغام سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سفارت میں بھی ان کا وہی دو ٹوک انداز تھا کہ جو دیکھا، جو محسوس کیا اس کو بلا کم و کاست کہہ دینا۔ اسی لئے وہ پاکستان میں اسے جسے اسٹبلشمنٹ کہا جاتا ہے، کبھی پسندیدہ نہیں رہے۔

ایس ایم فضل واجد صاحب کے ساتھ برسوں کام کرتے رہے ہیں۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں کہا کہ وہ کراچی یونیورسٹی سے فارغ ہو کر براہ راست اس شعبے سے وابستہ ہو گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم لوگ اپرینٹس رپورٹر تھے اور شروع میں کورٹ اور کرائم رپورٹنگ کرتے تھے۔

ماضی کے اوراق پلٹتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کامن ویلتھ پریس یونین کی اسکالر شپ ان کے کیریر کا سنگ میل ثابت ہوئی، اور بقول ان کے، وہیں سے انہوں نے صحیح معنوں میں ٹیک آف کیا۔

ایس ایم فضل نے کہا کہ واجد ایک بے باک اور جرآت مند صحافی تھے جنہوں نے اخبار کو وہاں پہنچا دیا جس کے بارے میں اس سے پہلے سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔

آج واجد شمس الحسن ہمارے درمیان نہیں ہیں۔ اور بھی بہت سے ایسے صحافی اور اس شعبے سے وابستہ دیگر لوگ جا چکے ہیں۔ مگر جو چیز انہیں زندہ رکھے ہوئے ہے وہ ہے ان کی اصول پسندی، اپنے پیشے سے دیانتدارانہ وابستگی اور جرآت، ان کے یہی اوصاف ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG