رسائی کے لنکس

logo-print

2017: بھارتی کشمیر کے لئے خونریزی  کا ایک اور سال


بھارتی فوجی غلیل کے ذریعے مظاہرین پر بلو ر کی گولیاں برسا رہے ہیں۔ فائل فوٹو

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2017 کے دوران شورش زدہ ریاست میں 349 افراد تشدد کا شکار ہو گئے۔

سرینگر- یوسف جمیل

سال 2017 نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کے لئے خونریزی اور تباہی کا ایک اور سال ثابت ہوا ہے۔ بلکہ سالانہ بنیاد پر گزشتہ دس برس میں اس سال کے دوران اوسطً تشدد کے سب سے زیادہ یعنی ساڑھے تین سو واقعات پیش آئے۔

سرکاری اعدادو شمار کے مطابق سال 2017 کے دوران شورش زدہ ریاست میں 349 افراد تشدد کا شکار ہوگئے۔ ان میں 56 عام شہری، 215 عسکریت پسند اور 78 حفاظتی اہلکار شامل ہیں۔

28 شہری آبادی والے علاقوں میں محصور عسکریت پسندوں کے خلاف شروع کئے گئے فوجی آپریشنز کے دوران اُس وقت ہلاک ہوگئے جب انہوں نے انہیں یعنی عسکریت پسندوں کو مدد پہنچانے کی غرض سے حفاظتی دستوں پر پتھر پھینکے یا مظاہرے کئے اور اس کے جواب میں حفاظتی دستوں نے ان پر گولی چلا دی ۔

تاہم استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی کشمیری جماعتوں کے اتحاد حریت کانفرنس (عمر) کے شعبہء حقوقِ انسانی کی طرف سے تیار کی گئی ایک رپورٹ میں ہلاک ہونے والوں کی کُل تعداد 391 دکھائی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان میں 97 نہتے عام شہری، 213 عسکریت پسند اور 81 حفاظتی اہکار شامل ہیں۔ رپورٹ میں جسے سنیچر کو سرینگر میں جاری کیا گیا، اس بات کی وضاحت کی گئی کہ مارے گئے شہریوں میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو متنازعہ فیہہ کشمیر کو بھارت اور پاکستان کے زیرِ انتظام حصوں میں تقسیم کرنے والی حد بندی لائین اور جموں کے علاقے میں واقع بھارت-پاکستان سرحد پر( جو نئی دہلی میں انٹرنیشنل بارڈر اور اسلام آبار میں ورکنگ بوانڈری کہلاتی ہے ) مقابل افواج کے درمیان ہوئی فائرنگ اور جوابی فائرنگ میں لُقمہء اجل بن گئے۔

مارے گئے شہریوں میں وہ آٹھ غیر ریاستی ہندو بھی شامل ہیں جو جولائی کے مہینے میں جنوبی ضلع اننت ناگ میں سالانہ امر ناتھ یاترا پر کشمیر آنے والے زائرین کی ایک بس پر مشتبہ عسکریت پسندوں کے حملے کی زد میں آ گئےتھے۔

ان کے علاوہ 21 شہری مشتبہ عسکریت پسندوں کے حملوں یا بم دھماکوں میں مارے گئے- یہ سب کے سب مقامی کشمیری تھے۔ ہلاک شدہ باقی شہری یا توعوامی مظاہروں یا پھر سنگباری کے واقعات کے دوران حفاظتی دستوں کی فائرنگ اور دوسری کارروائیوں میں ہدف بنائے گئے ۔ ان میں کئی خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

حفاظتی دستوں کے عہدیدار فوجی آپریشنز کے دوران دو سو سے زائید عسکریت پسندوں کی ہلاکت کو ان کے بقول دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کی ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔

ڈائرکٹر جنرل آف پولیس شیش پال وید نے بتایا کہ ایسا مختلف حفاظتی دستوں میں مکمل تال میل کی وجہ سے ممکن ہوسکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سال کے آغاز پر مقامی پولیس کے شورش مخالف اسپیشل آپریشنز گروپ (ایس او جی)، بھارتی فوج اور وفاقی پولیس فورس سی آر پی ایف نے ملکر "آپریش آل آؤٹ" کے نام سے عسکریت پسندوں کے خلاف جو مشترکہ کارروائی شروع کی تھی اُس کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ لہٰذا یہ آپریش 2018 میں جاری رہے گا۔

حریت کانفرنس کے شعبہِ انسانی حقوق کی رپورٹ میں حفاظتی دستوں پر انسانی حقوق کی مسلسل پامالیوں کا ارتکاب کرنے کا الزام عائید کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2017 کے دوران بھی نہ صرف عام شہریوں کی ایک بڑی تعداد حفاظتی دستوں کی فائرنگ یا دوسری کارروائیاں کے نتیجے میں ہلاک اور زخمی ہوگئی بلکہ شہریوں کی املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا - نیز تحریکِ مزاہمت کو دبانے کے کئے کرفیو پابندیوں، گرفتاریوں اور انٹرنیٹ کی سہولیات کو روکنے کا سلسلہ جاری رہا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مزاحمتی قیادت کو بار بار گھروں یا پھر جیل خانوں میں نظر بند کردیا گیا اور سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں جمعہ کے اجتماعات کو روکنے کے لئے اس کے صدر دروازے پر پولیس نے آٹھ بار تالا لگا دیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG