رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس: نوجوان رضاکار معمر افراد کو دہلیز پر خوراک و ادویات فراہم کرنے لگے


محبوب علی شیخ

دنیا بھر کی طرح امریکہ اور کینیڈا میں بھی عام شہری کرونا وائرس سے بچاؤ اور اس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے اپنے اپنے گھروں میں محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ اس وائرس کے برقرار رہنے کی مدت کے بارے میں غیر یقینی صورتحال نے عام شہریوں میں خوف کی کیفیت پیدا کر دی ہے، جس کی وجہ سے انہوں نے اپنے اپنے گھروں میں خوراک اور دوسری ضروریات زندگی کا ذخیرہ کر لیا ہے۔

اور اس کے نتیجے میں گراسری اسٹورز ضروری اشیائے خورد و نوش سے خالی دکھائی دیتے ہیں۔ معمر اور بیمار لوگوں کے لیےخاص طور پر صورتحال بہت گھمبیر ہو گئی ہے، کیوں کہ انہیں کرونا وائرس کے سب سے زیادہ لاحق خطرے کی بنا پر گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایات ہیں جب کہ وہ اپنی بیماریوں کے علاج، ادویات کی خریداری، فزیو تھیراپی یا کرونا وائرس کے ٹسٹوں کے لیے ہسپتالوں اور کلینکس تک گاڑی چلا کر بھی نہیں جا سکتے۔

ایسے میں، کینیڈا میں قائم پاکستانی کینیڈین شہریوں کی ایک تنظیم Stronger Together نے واٹس ایپ اور سوشل میڈیا کے ذریعے صوبے انٹاریو کے مختلف علاقوں کے لیے نوجوانوں اور طالبعلم رضاکاروں پر مشتمل گروپ تشکیل دیے ہیں جو معمر، بیمار یا ضرورتمندوں کو خوراک، ادویات اور ان کی ضرورت کی اشیا ان کے گھروں تک پہنچا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ انہیں علاج اور کرونا وائرس کے ٹسٹوں کے لیے ہسپتالوں اور کلینکس تک لانے لےجانے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے اپنی گاڑیاں بھی استعمال کر رہے ہیں۔

ان گروپس کے آرگنائزر اور 'اسٹرانگر ٹوگیدر' کے صدر، محبوب علی شیخ نے وائس آف امریکہ کو واٹس ایپ پر ایک آڈیو انٹرویو میں بتایا کہ اس مقصد کے لیے انہوں نے ٹورانٹو کے مختلف علاقوں کے لیے بنائے گئے رضاکاروں کے گروپس کے فون نمبر، واٹس ایپ اور سوشل میڈیا پر فراہم کر دئے ہیں جن پر لوگ فون کر کے، خوراک، ادویات یا اپنی ضرورت کی دوسری اشیا اپنے گھروں تک پہنچانے کی درخواست کرتے ہیں۔ اور یہ رضاکار گراسری یا دوسرے اسٹورز سے ان کی مطلوبہ چیزیں خرید کر ان کے گھروں کے دروازوں پر رکھ کر انہیں فون پر اطلاع دیتے ہیں کہ چیز ان کی دہلیز پر رکھ دی گئی ہے، جہاں سے وہ انہیں اٹھا لیتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ غریب لوگوں کو یہ اشیا مفت فراہم کرتے ہیں اور جو لوگ ان اشیا کو خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں ان سے وہ قیمت وصول کر لیتے ہیں۔

محبوب علی شیخ نے جو ورلڈ نیوز آبزرور ٹورانٹو کے بیورو چیف اور کینیڈین پاکستانی لائنز کلب کے صدر اور انٹرنیشنل ویلفئیر ٹرسٹ، کینیڈا چیپٹر کے خیر سگالی سفیر بھی ہیں، بتایا کہ واٹس ایپ پر ان گروپس کی تشکیل کو ابھی صرف ایک ہفتہ ہوا ہے اور اب تک وہ عام شہریوں اور معمر افراد کی سینکڑوں ٹیلی فون کالز وصول کر چکے ہیں اور ان کالز کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ صوبے انٹاریو کے مختلف علاقوں جن میں مسی ساگا، ملٹن، رچمنڈ ہل، اسکاربو اور نیو مارکیٹ شامل ہیں، واٹس ایپ اور سوشل میڈیا کے انہی گروپس کے ذریعے وہ مزید رضاکاروں کو اس خدمت میں شامل ہونےکی درخواست بھی کر رہے ہیں اور نوجوانوں اور طالبعلموں کی جانب سے انہیں بہت مثبت جواب مل رہا ہے۔

محبوب علی شیخ نے، جو ٹورانٹو 360 ٹی وی چینل کے ایک گھنٹے پر محیط ہفتے وار پروگرام فیس ٹو فیس کےاینکر بھی ہیں، بتایا کہ ان کی تنظیم سوشل میڈیا کے ذریعے کرونا وائرس کے بارے میں آگاہی پھیلانے اور اس خوف کو دور کرنے کے لیے بھی معلومات فراہم کر رہی ہے جو اس وائرس اور اس کی شدت اور دورانئے کے بارے میں کم علمی یا لاعلمی کی وجہ سے پھیل رہا ہے۔

'اسٹرانگر ٹوگیدر' کے صدر نے بتایا کہ وہ کرونا وائرس کےخلاف اس مہم کو توسیع دے کر پورے کینیڈا میں ایسے گروپس تشکیل دے رہے ہیں اور وہ اس وقت تک اس مہم کو انجام دیتے رہیں گے جب تک کرونا وائرس ان کےملک سےختم نہیں ہو جاتا اور لوگوں کے لیے معمولات زندگی بحال نہیں ہو جاتے۔

انہوں نےکہا کہ اس مشکل گھڑی میں گھروں میں محدود لوگوں کے لیے یہ خدمات انجام دے کر ان کی تنظیم نہ صرف بنیادی انسانی ہمدردی کا ایک فرض پورا کر رہی ہے بلکہ وہ کینیڈا کی حکومت کو اس بحران سے نمٹنے میں مدد فراہم کر رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ کینیڈا میں مقیم پاکستانیوں کا ایک مثبت تاثر پیش کرنے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG