رسائی کے لنکس

logo-print

ذاکر نائیک کو بھارت کے حوالے نہیں کریں گے: مہاتیر محمد


ڈاکٹر ذاکر عبدالکریم نائک بھارت سے تعلق رکھنے والے ایک مذہبی مبلغ ہیں۔

چند روز قبل نئی دہلی میں میڈیا رپورٹوں میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ ذاکر نائک بھارت واپس آرہے ہیں۔ نائک نے ایک بیان جاری کر کے اس خبر کو بے بنیاد اور غلط قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔

ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے جمعہ کے روز کہا کہ متنازع مذہبی مبلغ ذاکر نائیک کو بھارت واپس نہیں بھیجا جائے گا۔ انھوں نے ملک کے انتظامی دارالحکومت پتراجیہ میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جب تک ذاکر نائیک سے یہاں کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا ہم انھیں واپس نہیں بھیجیں گے۔ کیونکہ انھیں یہاں مستقل رہائشی کا درجہ حاصل ہے۔

چند روز قبل نئی دہلی میں میڈیا رپورٹوں میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ ذاکر نائیک بھارت واپس آرہے ہیں۔ نائک نے ایک بیان جاری کر کے اس خبر کو بے بنیاد اور غلط قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔

انھوں نے کہا تھا کہ جب تک وہ یہ محسوس نہیں کرتے کہ بھارت میں ان کے خلاف صاف شفاف اور منصفانہ کارروائی ہوگی وہ واپس نہیں آئیں گے۔

قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے کے ترجمان آلوک متل نے بھی میڈیا رپورٹ کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا تھا کہ سرِدست ہمیں ایسی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ ہم اس خبر کی تصدیق کر رہے ہیں۔

ممبئی میں واقع ذاکر نائیک کے ادارے اسلامک ریسرچ فاونڈیشن (آئی آر ایف) کے میڈیا مشیر عارف ملک نے وائس آف امریکہ کے اس سوال پر کہ کیا ملائیشیا کے وزیر اعظم کا مذکورہ بیان دونوں ملکوں کے مابین حوالگی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہے، نفی میں جواب دیا اور کہا کہ کوئی بھی ملک پہلے حوالگی درخواست کا جائزہ لیتا ہے اس کے بعد ہی واپس کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں کوئی فیصلہ کرتا ہے۔ ملیشیا کی حکومت جائزہ سے قبل اس معاہدے کی پابند نہیں ہے۔

انھوں نے این آئی اے کی جانب سے ذاکر نائیک کے خلاف عائد کیے جانے والے الزامات کی ترید کی اور کہا کہ انٹرپول نے نائیک کے خلاف ریڈ کارنر نوٹس جاری کرنے سے اسی لیے انکار کر دیا تھا کہ این آئی اے کوئی بھی الزام ثابت نہیں کر سکی۔ وہ ملکی عدالت میں بھی کوئی الزام ابھی تک ثابت نہیں کر سکی ہے۔

بقول ان کے یہ پوری کارروائی ایک انفرادی شخص کو پریشان کرنے اور اس کے ادارے کو بند کرنے کے مقصد سے کی جا رہی ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ نے ایک روز قبل کہا تھا کہ اس نے جنوری میں حوالگی کی درخواست کی تھی جس پر ملائیشیائی حکومت غور کر رہی ہے۔

2016 میں ڈھاکہ میں ایک میچ کے دوران ہونے والے بم دھماکے میں ملوث ایک مشتبہ نوجوان نے کہا تھا کہ وہ ذاکر نائیک کی تقریر وں سے متاثر ہے۔ اس کی بنیاد پر این آئی اے نے ان کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے نوجوانوں کو اکسانے اور دو فرقوں کے مابین نفرت پھیلانے کا مقدمہ قائم کیا۔ ذاکر نائک متعدد بار اس الزام کی تردید کر چکے ہیں۔

دریں اثنا نائب وزیر داخلہ ہنس راج اہیر نے ملائیشیائی وزیر اعظم کے بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے کہ ابھی ایسا نہ ہو مگر آگے چل کر ذاکر نائک کو گرفتار کیا جائے گا اور انصاف کے کٹہرے تک لایا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG