لاہور کی دس نرسیں تیزاب گردی کا شکار

فائل

خواتین کو کبھی غیرت کے نام پر، کبھی شادی سے انکار پر، کبھی خاندانی دشمنی، اراضی کے تنازعے یا کبھی گھریلو ناچاقی کے باعث تیزاب سے جھلسا دیاجاتا ہے، معاشرے میں تیزاب گردی کا یہ ظلم ناسور بنتا جارہاہے
تیزاب گردی کا یہ واقعہ لاہور کے میو اسپتال میں پیش آیا جہاں رحمانہ نام کی خاتون نرسنگ کی ڈیوٹی انجام دیتی تھیں۔

معمول کے مطابق، رحمانہ اسپتال میں ڈیوٹی پر نرسوں کےساتھ موجود تھی، اس کے شوہر عمران نے اسپتال میں داخل ہوکر بیوی رحمانہ پر تیزاب پھینکا جس سے رحمانہ کے ساتھ موجود نرسیں بھی تیزاب کی لپیٹ میں آگئیں اور ان کا چہرہ اور جسم بری طرح جھلس گیا۔ اسپتال انتظامیہ نے ملزم عمران کو پکڑنے کی کوشش کی تو ملزم نے ان پر بھی تیزاب پھینک دیا۔ تاہم، اسپتال میں موجود افراد نے ملزم کوپکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا۔

تیزاب گردی کا یہ واقعہ میاں بیوی کی ذاتی چپقلش کا واقعہ ہے۔ ملزم شوہر نےناراضگی کی بناپر رحمانہ کی زندگی جھلسادی۔ متاثرہ خاتون کی اپنے شوہر کےساتھ دو برس سے ان بن چل رہی تھی۔

پاکستان میں خواتین پر ہونے والےتشدد میں سب سے اذیت ناک تشدد تیزاب کا ہے۔ خواتین کو کبھی غیرت کے نام پر، کبھی شادی سے انکار پر، کبھی خاندانی دشمنی، اراضی کے تنازعے یا کبھی گھریلو ناچاقی کے باعث تیزاب سے جھلسا دیاجاتا ہے، معاشرے میں تیزاب گردی کا یہ ظلم ناسور بنتا جارہاہے۔ تیزاب کا شکار اکثر طالبعلم لڑکیاں اور ملازمت پیشہ خواتین ہوتی ہیں، جن پر تیزاب کی بوتل راہ چلتے انڈیل دیجاتی ہے اور ایک ہنستا مسکراتا چہرہ مرجھا دیاجاتا ہے، اس کی تکلیف اتنی شدید ہوتی ہے کہ اگر خاتون کے جسم کا زیادہ تر حصہ اس کی لپیٹ میں آجائے تو موت بھی واقع ہوجاتی ہے، جبکہ تیزاب سے جلے ہوئے زخم زندگی بھر کیلئے عورت کیلئے ایک سوالیہ نشان بن کر رہ جاتے ہیں۔

تیزاب جیسا ہتھیار پاکستان میں ہر جگہ باآسانی دستیاب ہوتا ہے، تیزاب خریدنے والے سے یہ نہیں پوچھاجاتا کہ اس کو کس مقصد کیلئے تیزاب چاہئیے۔

تیزاب کی فروخت کھلے عام ہوتی ہے، اگرچہ تیزاب کی مینوفیکچرنگ اور امپورٹ کا قانون تو موجود ہے مگر پرچون اور ہول سیل کی دوکانوں کے لئے کوئی قانون سازی کا عمل نہیں کیا جاتا، کوئی شخص کہیں سے بھی اسے خرید سکتا ہے اور ایک تیزاب کی بوتل کی قیمت چند روپے ہے، ملزمان کیلئے اس سے سستا اور آسان ہتھیار کوئی نہیں۔


پاکستان میں تیزاب گردی کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ تحقیق کے مطابق، تیزاب گردی کےواقعات سنہ 2009ء میں 43، سنہ 2010ء میں 55 اور2011ء میں سب سے زیادہ یعنی 115ہوئے۔

پاکستان میں تیزاب گردی کے خلاف ایک بل پاس ہوچکا ہے اورتیزاب پھینکنے والے ملزم کو چودہ سال کی سزا بھی مختص کردی گئی ہے۔ اس کے باوجود ایسے واقعات میں کمی کی بجائے زیادتی دیکھنے میں آرہی ہے۔