رمشا کیس میں ملوث افرادکو سامنے لایا جائے: مولانا طاہر اشرفی

Rimsha

مولانا ظاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ انکی رپورٹ کے مطابق رمشا کم عمر ہے اور سے ڈاؤن سینڈروم کی بیماری ہے۔
پاکستان علما کونسل نے پیر کے روز تو ہیں مذہب کے الزام میں گرفتار رمشا مسیح کیس کے حوالے ایک پریس کانفرنس منعقد کی۔ وائس آف امریکہ کی اردو سروس سے خصوصی انٹرویو میں کونسل کے چیرمین مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے میں ملوث ملزمان کو سامنے لایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی چھان بین کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے جو اس سارے واقعے کی تحقیق کرے تاکہ اس کے اصل محرکات کو سامنے لایا جاسکے۔
انھوں نے کہا کہ توہین مذہب کے قانون کو برقرار رکھا جائے مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ ا س سلسلے میں قانونی شفافیت ہو تاکہ بے گناہوں کو بچایا جاسکے۔

مولانا ظاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ انکی رپورٹ کے مطابق رمشا کم عمر ہے اور سے ڈاؤن سینڈروم کی بیماری ہے۔ اگر یہ بات درست ہے تو عدالت کو بلا خوف و خطر فیصلہ کرنے دیا جائے اور اس پر کوئی دباو نہ ڈالا جائے۔

رمشا مسیح کو پاکستان سے باہر منتقل کرنے کے بارے میں مولانا طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ اگر اسے حکومت تحفظ فراہم نہیں کر سکتی تو پاکستان علما کونسل اس کے لیے تیار ہے۔

مزید تفصیلات اس آڈیو میں۔

Your browser doesn’t support HTML5

انٹرویو: مولانا طاہر اشرفی