تین جماعتوں کی سندھ اسمبلی میں اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کی درخواست

سیاست

مسلم لیگ فنکشنل کے پارلیمانی رہنما جام مدد علی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ان کا اپوزیشن میں جانے کا فیصلہ حتمی ہے۔ اُن کے بقول، ہم پورے سندھ میں یکساں نظام چاہتے ہیں اور اس موقف پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا
سندھ میں نئے بلدیاتی آرڈیننس سے ناراض اتحادی جماعتوں کو منانے کیلئے پیپلزپارٹی کی تمام کوششیں بظاہررائیگاں گئی ہیں۔مسلم لیگ فنکشنل ، نیشنل پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ق نے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کی درخواست جمع کر ادیں جبکہ اے این پی صوبے میں حزب مخالف کاکردار ادا کرنے کیلئے جمعہ کو درخواست دے گی۔

صدر آصف علی زرداری کی مفاہمتی پالیسی کے نتیجے میں گزشتہ ایک سال سے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن کا خاطر خواہ کردار نظر نہیں آ رہا تھا۔ تاہم، ایم کیو ایم کے ساتھ مل کرپیپلزپارٹی نے جب صوبے میں نیا بلدیاتی نظام لانے کیلئے آرڈیننس جاری کیا تو ایم کیو ایم کے علاوہ اس کی تمام اتحادی جماعتیں ناراض ہو گئیں۔

اس دوران پیپلزپارٹی کی قیادت ناراض جماعتوں کی قیادت کو منانے کی مسلسل کوشش کرتی رہی تاہم اسے کامیابی نہیں ہوئی۔جمعرات کو مسلم لیگ فنکشنل کے پارلیمانی رہنما وسابق وزیر جام مدد علی کی قیادت میں نیشنل پیپلزپارٹی کے مسرور جتوئی اور مسلم لیگ ق کے شہریار مہر نے ہم خیال گروپ کے ارکان کے ساتھ ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی شہلا رضا سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اورتینوں جماعتوں کے بارہ ارکان نے اپوزیشن میں بیٹھنے کی درخواست دی۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں جام مدد علی کا کہنا تھاکہ ان کا اپوزیشن میں جانے کا فیصلہ حتمی ہے۔اُن کے بقول، ہم پورے سندھ میں یکساں نظام چاہتے ہیں اور اس موقف پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔

ادھر حکومتی اتحاد میں شامل ایک اور اہم جماعت اے این پی نے بھی جمعہ کو اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کیلئے درخواست دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ اے این پی سندھ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے صوبائی پارلیمانی لیڈر امیر نواب خان کو اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کیلئے درخواست دینے کی ہدایات کی ہے اور اس حوالے سے اسپیکرسندھ اسمبلی کو جمعہ کو درخواست دی جائے گی۔سینیٹر شاہی سید نے کہا کہ کراچی میں امن کا قیام اُن کی اولین ترجیح ہے۔

اس سے پہلے سندھ اسمبلی میں مسلم لیگ ہم خیال سے تعلق رکھنے والے صرف چار اراکین صوبائی اسمبلی اپوزیشن بینچوں پر برا جمان تھے۔ اگر مذکورہ اراکین کی درخواست موصول ہوجاتی ہے تو یہ تعداد سولہ ہو جائے گی اور اگر اے این پی سندھ کے دو اراکین صوبائی اسمبلی بھی اپوزیشن میں چلے جاتے ہیں تو یہ تعداد اٹھارہ تک جا پہنچے گی۔

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مسلم لیگ فنکشنل سے تعلق رکھنے والے جام مدد علی کو اپوزیشن لیڈر چن لیا جائے گا۔