امریکی اخبارات سے: بجٹ خسارے پر مذاکرات کی تیاری

مزدور انجمنوں اور سرگرم کارکنوں کے ساتھ ایک ملاقات میں مسٹر اوباما نے اپنا یہ عہد دوہرایا کہ وہ دولت مند امریکیوں کے ٹیکس بڑھانے پر مصر رہیں گے۔
وال سٹریٹ جرنل

صدر براک اوباما جمعے کے روز کانگریس کے لیڈروں کے ساتھ بجٹ پر مذاکرات کرنے والے ہیں۔

وال سٹریٹ جرنل کا کہناہے کہ صدر مطالبہ کریں گے کہ اگلے دس سال میں آمدنی بڑھانے کے لیے16 کھرب ڈالر کے اضافی ٹیکس لگائے جائیں ۔

مزدور انجمنوں اور سرگرم کارکنوں کے ساتھ ایک ملاقات میں مسٹر اوباما نے اپنا یہ عہد دوہرایا کہ وہ دولت مند امریکیوں کے ٹیکس بڑھانے پر مصر رہیں گے۔

اخبار کہتاہے کہ صدر کا یہ ابتدائی موقف انتخابات میں ان کی کامیابی کے بعد ایک نئے عزم کا عکاس ہے۔ اخبار کا کہناہے کہ ری پبلیکنز پہلے ہی ایک ایسا سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار ہیں جس کے تحت امریکیوں کو زیادہ ٹیکس دینا پڑے۔

صدر اوباما نے اپنا یہ مطالبہ بھی دوہرایا ہے ہے کہ امیرترین امریکیوں کو بش دور کے ٹیکسوں کی جوچھوٹ حاصل ہے، وہ ختم ہونی چاہیے۔ جب کہ باقی لوگوں کی چھوٹ برقرار رہنی چاہیے۔


واشنگٹن پوسٹ

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ ہے کہ جمعے کو اسپیکر جان بنیر اور دوسرے کانگریسی راہنماؤں کے ساتھ مذاکرات میں مسٹر اوباما کا موقف سخت ہوگا۔ اخبار کہتا ہے کہ انتخابات میں زبردست کامیابی کے بعد جس میں وہائٹ ہاؤس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ برقرار رہا اور جس میں انہوں نے دونوں ایوانوں میں مزید نشستیں حاصل کیں، ڈیموکریٹس کا موقف یہ ہے کہ انتخابی پلیٹ فارم کا جومرکزی نقطہ ہے ، اس پر سمجھوتہ کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

مارننگ نیوز

اخبار مارننگ نیوز نے ایک ادارتی مضمون میں لکھا ہے کہ امیگرپشن کے قوانین میں اصلاح کرنے کا وقت آگیا ہے اور یہ موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے۔ اخبار کا کہناہے کہ اس قسم کی اصلاح کرنے کے کئی مواقع آئے اور ضائع ہوگئے۔ جارج ڈبلیو بش کو دونوں پارٹیوں کی حمایت حاصل ہونے کے باوجود اس میں کامیابی نہ ہوئی اور نہ ہی صدر براک اوباما اپنی پہلی مدت صدارت میں اس میں کچھ کرسکے۔

اخبار کہتا ہے کہ اس سال کے انتخابات سے یہ حقیقت آشکار ہوگئی ہے کہ ہسپانوی زبان بولنے والے قومی سیاست میں کتنا اہم کردار ادا کرتے ہیں اور جن سیاست دانوں نے اس حقیقت کو نظر انداز کیا، ان کو اس کی قیمت ادا کرنی پڑی۔ اور اخبار کے خیال میں ری پبلیکن لیڈر ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اب جامع امیگریشن اصلاحات کے حق میں اپنا لہجہ بدلتے جارہے ہیں اور مطالبہ کررہے ہیں۔ جیسا کہ ایوان نمائندگان کے ری پبلیکن سپیکر جان بینر نے کہا ہے کہ اب یہ کام سرانجام دینے کا وقت آگیا ہے اور ہمیں امیگریشن کے اس نظام کے نقائص کو دور کرنا چاہیے۔

اخبار کہتا ہے کہ وہ امیگریشن میں جامع اصلاحات کا حامی ہے تاکہ سرحدوں کی سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ امریکی کاروباری طبقے کو اس کی اجازت ہو کہ وہ کم ہنر طلب آسامیاں پر کرنے کے لیے جزوقتی کارندوں کی خدمات حاصل کرسکیں۔مثلاً فصلیں کاٹنے یاریستورانوں کی ملازمتیں وغیرہ۔ جن میں مقامی باشندے دلچسپی نہیں لیتے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی یقینی بنائی جائے کہ ملازمتیں صرف قانونی طورپر نقل مکانی کرکے آنے والوں کو دی جائیں۔

اخبار نے یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ وہ سامنے آئیں کیونکہ اسی طرح ان کو قانونی درجہ دینے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

بالٹی مورسن

رواں سال کے صدارتی انتخابات میں ری پبلیکن امیدوار مٹ رامنی کی شکست کے بعد اس پارٹی میں ان کے مستقبل کے بارے میں قیاس آرائیاں ہورہی ہیں۔ بالٹی مورسن کے کالم نویس جیول وٹ کور کاخیال ہے کہ ان کا کوئی مستقبل نہیں ہے کیونکہ ان کو نہ تو پارٹی کے قدامت پسند اب منہ لگاتے ہیں اور نہ ہی اعتدال پسند۔

کالم نگار کا کہناہے کہ مٹ رامنی گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے رہے۔ پارٹی کے پرائمری انتخابات کے دوران انہوں نے خود کو انتہائی قدامت پسند سیاست دان کے طورپر پیش کیا۔لیکن بعد میں وہ اپنے آپ کو میساچوسٹس کے اعتدال پسند کے طورپر پیش کرنے لگے تاکہ وہ خودمختار ووٹروں کی ہمدریاں حاصل کرسکیں۔