غیرقانونی تارکین وطن، دو ارب ڈالر منظوری کی درخواست

فائل

رقوم کی فراہمی کی یہ درخواست ایسے میں سامنے آئی ہے جب کانگریس میں جامع امی گریشن اصلاحات کی قانون سازی منظوری کی منتظر ہے۔ ادھر، امریکہ میں داخل ہونے والے غیر قانونی پناہ گزنیوں کا تعلق زیادہ تر ہندوراس، گوٹے مالا اور السلواڈور سے بتایا جاتا ہے

وسطی امریکہ سےتعلق رکھنے والی خواتین اور بچوں کے غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہونے کے عمل کو روکنے کے ضمن میں، امریکی صدر براک اوباما نے دو ارب ڈالر مالیت کی ہنگامی رقوم کی منظوری کا مطالبہ کیا ہے۔


مسٹر اوباما پیر کو باضابطہ طور پر کانگریس سے زر کی منظوری کی درخواست کریں گے، جِس کا مقصد میکسیکو کے ساتھ امریکہ کی جنوبی سرحد پر کنٹرول کے ضابطوں کو فروغ دینا ہے، اور اکتوبر سے غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہونے والے52000 بچوں کی ملک بدری کے کام میں تیزی لائی جائے گی، جو اکیلے ہیں؛ جب کہ 39000 خواتین ایسی ہیں جو بچوں کے ہمراہ ہیں۔

اِن میں سے زیادہ تر پناہ گزنیوں کا تعلق ہندوراس، گوٹے مالا اور السلواڈور سے ہے۔ اُن کے اعداد کے پیش نظر، امریکی امی گریشن حکام کو پریشانی لاحق ہے۔ تاہم، امریکی قانون کی رو سے اُنھیں فوری طور پر اپنے ملکوں کو واپس نہیں بھیجا جا سکتا۔

کچھ بچے ایسے بھی ہو سکتے ہیں جو امریکہ میں پہلے ہی سے موجود اپنے خاندانوں سے ملیں گے۔

رقوم کی فراہمی کی یہ درخواست ایسے میں سامنے آئی جب کانگریس میں جامع امی گریشن اصلاحات کی قانون سازی منظوری کی منتظر ہے۔

ایک اہم قانون سازاور ایوان کی اقلیتی قائد، نینسی پلوسی نے ہفتے کو ٹیکساس کی جنوب مغربی ریاست میں اس مقام کو دیکھا جہاں یہ پناہ گزیں بچے قیام کر رہے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ امریکہ بچوں کے داخلے کے معاملے سے ذمہ داری سے نبردآزما ہو۔

بقول اُن کے، ’ہماری یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ہم اِس معاملےکو باوقار طریقے سے حل کریں‘۔